The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ وادی ایک بار پھر فوجی چھاؤنی میں تبدیل

سری نگر: نام نہاد کل جماعتی کانفرنس سے قبل بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے، بھارت نواز کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی اے پی سی کی دعوت دی گئی ہے۔

نام نہاد کانفرنس کے زریعے دنیا کو گمراہ کرنے والی مودی سرکار نے دہلی کانفرنس سے قبل مقبوضہ وادی میں ہائی الرٹ کردیا ہے، قابض انتظامیہ نےمقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے۔

دوسری جانب کشمیری سیاسی جماعتوں کے الائنس نے مطالبہ مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت فی الفور مقبوضہ وادی کی پانچ اگست سے پہلےکی خصوصی حیثیت بحال کرے۔

بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو نظر انداز کیا جبکہ نام نہاد اے پی سی میں شرکت کرنے والوں کو ایجنڈہ تک نہیں دیا گیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کئے جانے کے اقدام کے دو سال بعد مودی کی بھارت نواز کشمیری رہنماؤں سے یہ پہلی ملاقات ہے، ملاقات کرنے والوں میں محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد شامل ہیں۔

دوسری جانب حریت رہنما عبدالحمید لون کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی نےآج اپنےکٹھ پتلیوں کی کانفرنس بلارکھی ہے ، مودی کی طرف سے کانفرنس دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آل پارٹیز کانفرنس، ‘اب کشمیری عوام مودی کے کسی بھی جھانسے میں نہیں آئیں گے

عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی ساری حریت قیادت جیلوں میں بندہے، مودی حریت قیادت کوجیلوں میں بند کرکے کا نفرنس کاڈرامہ کررہاہے،اب کشمیری عوام بھارت کےکسی بھی جھانسےمیں نہیں آئیں گے۔

حریت رہنما کا کہنا تھا کہ بھارتی سرکار نے ہمیشہ کشمیریوں سےدھوکہ کیا، کشمیری عوام کوحق خودارادیت کےسوا کوئی آپشن منظور نہیں، مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔

عبدالحمید لون نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیرکافوجی محاصرہ ختم کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل کرے، بھارت کی تاریخ ہےوہ ہمیشہ اپنےوعدوں سے مکر جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں