The news is by your side.

Advertisement

ایڈز کا علاج قابل رسائی لیکن مریضوں میں خطرناک اضافہ

لندن: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کو ایڈز کے علاج کی سہولیات میسر ہوئیں۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ اور رواں برس مزید 12 لاکھ افراد ایڈز کے علاج سے مستفید ہوسکے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ سنہ 1981 سے اس مرض کے سامنے آنے کے بعد اب تک اس مرض سے 8 کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 3 کروڑ سے زائد اس مرض کے باعث موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایڈز کی جانچ کے لیے آلہ تیار

یو این ایڈز کے مطابق اس موذی مرض کے علاج کی سہولیات میسر ہونے کے بعد سنہ 2005 سے اب تک اس مرض سے ہونے والی اموات کی شرح میں 45 فیصد کمی آچکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2005 میں 20 لاکھ افراد ایچ آئی وی ایڈز کے باعث موت کا شکار ہوئے جبکہ سنہ 2015 تک یہ شرح گھٹ کر 11 لاکھ ہوگئی۔

اقوام متحدہ نے تسلیم کیا کہ ان اعداد و شمار میں کمی ایک خوش آئند قدم ہے لیکن اس ضمن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا شکار افراد میں وقت کے ساتھ ساتھ دوسری بیماریوں بشمول ٹی بی اور ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس مرض کے پھیلاؤ میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جس پر قابو پانا ازحد ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

ماہرین نے بتایا کہ سنہ 2015 میں 5 کروڑ سے زائد افراد میں اس مرض کی تشخیص کی گئی تھی جو اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔

واضح رہے کہ ایک تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے چند دن بعد 85 فیصد افراد کو انفیکشن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کا بروقت علاج مرض کو جان لیوا ہونے سے بچا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں