The news is by your side.

ابو عاقلہ کا قتل: الجزیرہ نے اسرائیلی تحقیقاتی نتائج کی مذمت کر دی

دوحا: قطر کی میڈیا کمپنی الجزیرہ نے خاتون صحافی ابوعاقلہ کے قتل کے سلسلے میں اسرائیلی تحقیقاتی نتائج مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق الجزیرہ نے شیرین ابو عاقلہ کے قتل کے بارے میں اسرائیلی فوج کی تحقیقات کے نتائج کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیلی قابض افواج کی معروف صحافی کے قتل کی مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کے روز پہلی بار اعتراف کیا کہ اس کے فوجیوں میں سے ایک نے ممکنہ طور پر صحافی کو ’’حادثاتی طور پر‘‘ گولی مار دی تھی، تاہم ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس کے قتل کی مجرمانہ تحقیقات شروع نہیں کرے گی۔

پیر کو نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا: ’’الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک اس تحقیقات کے نتائج کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ غلط اعتراف آئی او ایف کی جانب سے شیرین کے قتل کی مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ قتل جو متعدد آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے۔‘‘

الجزیرہ نے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات کرے تاکہ انھیں، اور ان کے خاندان اور دنیا بھر کے ساتھی صحافیوں کو انصاف مل سکے۔

امکان ہے فلسطینی صحافی کی موت فوجی کی فائرنگ سے ہوئی، اسرائیلی رپورٹ

دوحا میں مقیم نیٹ ورک نے ابو عاقلہ کے کیس کو ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھی بھیج دیا ہے۔ یاد رہے کہ 51 سالہ خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کو 11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی دراندازی پر رپورٹنگ کرتے ہوئے گولی ماری گئی تھی، اور اس وقت انھوں نے ہیلمٹ اور فلیک جیکٹ پہنا ہوا تھا جس پر واضح طور پر ’’پریس‘‘ لکھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں