The news is by your side.

Advertisement

الہ دین الاٹمنٹ معاملہ، ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ کو مشورہ دے دیا

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اہم مشورہ دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلی سندھ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ الہ دین پارک کی الاٹمنٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وزرا ملوث تھے، جن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم نے مراد علی شاہ کے بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مراد علی شاہ کی جانب سے لگایا جانے والا الزام حقائق کے منافی ہے کیونکہ جس دور میں الہ دین پارک کی الاٹمنٹ ہوئی، اُس وقت شہر میں فہم الزماں ایڈمنسٹریٹر تعینات تھے‘۔

ایم کیو ایم ترجمان کے مطابق ’گلشن اقبال میں واقع الہ دین پارک کی الاٹمنٹ کیلئے 1995 میں اُس وقت اشتہارات شائع ہوئے جب پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور مراد علی شاہ کے والد وزیراعلیٰ سندھ تھے‘۔

مزید پڑھیں: تجاوزات کیخلاف آپریشن: الہٰ دین پارک میدان جنگ بن گیا

متحدہ قومی موومنٹ نے مراد علی شاہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ’وزیراعلیٰ سندھ بیان دینے سے پہلے اپنے بڑوں سے مشورہ کرلیا کریں ورنہ انہیں ایسے ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے سارے وزیروں کو ایم کیو ایم فوبیا ہوگیا ہے، سارا ملک جانتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ہر دورِ حکومت میں کرپشن پروان چڑھتی ہے ، پیپلز پارٹی کے وزیروں کا بال بال کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، اگر الہ دین پارک کی الاٹمنٹ میں کرپشن ہوئی ہے تو پیپلز پارٹی جواب دے‘۔

ایم کیو ایم نے الہ دین پارک کی الاٹمنٹ کی شفاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر شفاف تحقیقات ہوئیں تو پی پی وزرا کے نام آئیں گے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں