عمر نرے عرف خالد خراسانی ڈرون حملے میں‌مارا گیا، آئی ایس پی آر کی تصدیق -
The news is by your side.

Advertisement

عمر نرے عرف خالد خراسانی ڈرون حملے میں‌مارا گیا، آئی ایس پی آر کی تصدیق

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ عمر نرے عرف خلیفہ عمر عرف خالد خراسانی افغانستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر  جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام نے  تصدیق کی ہے کہ عمر نرے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف کو افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر نے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع کر کے گزشتہ دنوں افغانستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں طالبان کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے‘‘۔

عاصم باجوہ نے مزید کہا ہے کہ ’’عمر نرے عرف خالد خراسانی سانحہ آرمی پبلک اسکول، باچا خان یونیورسٹی پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا‘‘۔

مزید پڑھیں :       پاک افغان سرحد پر ڈرون حملہ، چار مشتبہ دہشت گرد ہلاک

دوسری جانب پینٹا گون سے جاری بیان میں مارک ٹونر نے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد عمر نرے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اہم کامیابی قرار دیا ہے، مارک ٹونر نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اقدامات قابل تحسین ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف راحیل شریف کا عزم اور ہمت قابل تحسین ہے، اس سے خطے میں امن و امان قائم کرنے میں بہت مدد مل رہی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کروں گا‘‘۔

مارک ٹونر نے پریس کانفرنس میں دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کو بھی دہشت گردی کے باعث ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم خطے میں امن و امان کے لیے پاکستان کا کردار امریکا کے لیے بہت اہم ہے، دونوں ممالک مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بحال رکھیں گے‘‘۔

واضح رہے دو روز قبل پاک افغان سرحد کے قریب امریکی ڈرون حملہ کیا گیا تھا، امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈرون حملے میں تحریک طالبان افغانستان کے اہم کمانڈر سمیت 3 کارندے ہلاک کیے گئے تھے، پاکستانی سیکورٹی حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی ڈرون طیاروں نے خیبرایجنسی کے ضلع ننگر ہار کے نزدیگ افغان علاقے نازیان میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔

یاد رہے دو سال قبل پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے سے 132 طلبا سمیت 141 افراد شہید ہوئے تھے جبکہ رواں سال جنوری میں چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر حملے سے پروفیسر سمیت 20 افراد شہید ہوگئے تھے۔

قبل ازیں فوجی عدالت نے سانحہ آرمی پبلک اسکول میں ملوث 6 دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں