دنیا کی بہترین جامعات میں پاکستانی یونیورسٹی کا شامل نہ ہونا توجہ طلب مسئلہ ہے، صدر علوی -
The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی بہترین جامعات میں پاکستانی یونیورسٹی کا شامل نہ ہونا توجہ طلب مسئلہ ہے، صدر علوی

کراچی میں ہونے والے سمپوزیم کا افتتاح صدر مملکت نے کیا

کراچی: صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست میں کسی بھی پاکستانی یونیورسٹی کا نہ ہونا نام شامل نہ ہونا توجہ طلب مسئلہ ہے، ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے جامعہ کراچی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا۔

واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) ‘نیچرل پروڈکٹ برائے مستقبل‘ کے موضوع پردوسرے بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’کم پانی سے تیارہونے والی فصلوں کی پیداوار کو فروغ دینا بہت ضروری ہے، بنگلادیش اور نیپال جیسے چھوٹے ممالک میں پانی کا کم استعمال کر کے فصلیں تیار کی جارہی ہیں‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی 2 یونیورسٹیاں ایشیا کی 100 بہترین جامعات میں شامل

پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے حوالے سے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ’ایسے طریقے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں کم پانی سے فصلیں تیار کی جائیں، ملک میں قابلِ اطلاق تحقیق کا فروغ ناگزیر ہے‘۔

بنگلا دیش اور نیپال کی طرح کم پانی سے فصلوں کی پیداوار ضروری ہے

صدر مملکت

انہوں نے کہا کہ سائنس کے حوالے سے ایسی تحقیق کو عام کیا جائے جس کا اطلاق ممکن ہو، پاکستان میں محکمہ زراعت اور فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے، ہمیں فلپائن اور بنگلادیش کی طرز پر زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کی پانچ سو بہترین جامعات کی فہرست میں کسی بھی پاکستانی یونیورسٹی کے نام کا شامل نہ ہونا توجہ طلب مسئلہ ہے، حکومت ترجیح بنیادوں پر پرائمری اور سیکنڈری سطح پر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کررہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں پاکستانی جامعات کا نام بھی شامل ہوں اور قوم کو نوجوانوں کو بہترین روزگار کے مواقع بھی مل سکیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ’تعلیم اور تحقیق کے میدانوں میں کثیر فنڈنگ کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ان میدانوں میں تعلیمی و تحقیقی اداروں کا معیاری ہونا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے‘۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ جہاں تک اعلیٰ تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا تعلق ہے تو اس میدان میں پاکستان کو دنیا کے نقشے پربھرپور انداز سے اُبھرنا ہے۔

دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست میں پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کا شامل نہ ہونا تشویشناک بات ہے

صدر مملکت نے بین الاقوامی مرکز کی انتظامیہ کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت معروف بین الاقوامی تحقیقی مرکز سے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات پروفیسر سلیم الزماں صدیقی، ڈاکٹر عطا الرحمان، لطیف ابراہیم جمال، حکیم محمد سعید کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اساتذہ کی تربیت کے لیے عالمی اسکالرز کو پاکستان بلائیں گے: صوبائی وزیر تعلیم

اس موقع پر پروفیسر عطا الرحمن کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’دنیا اب بدل چکی اور اب تبدیلی کے ساتھ قدرتی وسائل کی اہمیت ختم ہوچکی ہے، عصر حاضر  میں کامیاب معیشت کے لیے تعلیم کا فروغ بہت ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں وہی ممالک ترقی کررہے ہیں جو جدت طرازی اور تحقیقی میدان میں کھل کر سرمایہ کاری کررہے ہیں، پاکستان کو بھی ترقی کرنے کے لیے بیس سال سے کم عمر کے 20 لاکھ نوجوانوں کو جدید تعلیم و تربیت فراہم کرنا ہوگی۔

ڈاکٹر اجمل خان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت نے اپنی ترجیحات میں معیشت اور اعلیٰ تعلیم کا فروغ شامل کیا جو بہت حوصلہ افزا بات ہے‘۔

افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان، سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، سابق چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن،آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری سمیت فرانسیسی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر جارج میتھیوزنے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں ہونے والے سمپوزیم میں 600 ملکی و غیر ملکی سائنسدان اور محقق شرکت کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں