The news is by your side.

Advertisement

بھارت کا اندھا انصاف، کشمیری نوجوان کوجیپ سے باندھنے والے میجر کوکلین چٹ دے دی

سری نگر : مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کا اندھا انصاف، کشمیری نوجوان کوجیپ سے باندھنے والے میجر کوکلین چٹ دے دی۔

کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں نوجوان کوجیپ سے باندھ کر گھمانے والے بھارتی میجرکوانکوائری کمیٹی نے ہرالزام سے بری کردیا، پوری دنیا کے سامنے کے کشمیری نوجوان پر ظلم ڈھانے والے بھارتی میجرکو نہ کوئی سزا ہوئی اورنہ ہی کوئی جرمانہ۔

انکوائری کمیٹی نے الٹا ڈھٹائی اوربے انصافی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے اعلان کردیا کہ کورٹ مارشل کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔


مزید پڑھیں : سرینگر: کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال بنانے پر بھارتی پولیس کا اپنی فوج پر مقدمہ


یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ کے آگے باندھنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کیخلاف بھارتی پولیس نے مقدمہ درج کرایا تھا، مقدمہ ضلع بڈگام کے بیروا پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا جبکہ مقدمے میں بھارتی فوج کی 53راشٹریا رائفلز کو نامزد کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں نوجوان کے اغوا اور اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے ایک کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے باندھ کر مارچ کیا گیا تھا ، جس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد سے بھارتی حکومت اور فوج کو سخت تنقید کا سامنا تھا اور واقعے میں ملوث فوجیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔


مزید پڑھیں : مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا جیپ کے آگے نوجوان کو باندھ کر گشت


بھارتی فوجی نے ہجوم کے پتھراؤ سے بچنے کیلئے فاروق ڈار کو جیپ کے آگے باندھ کر یہ اعلان کیا تھا کہ پتھر مارنے والوں کا انجام بھی یہی ہو گا۔

پولیس حکام نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دیے تھے اور کہا تھا کہ اگر ویڈیو کو صحیح پایا گيا تو فوج کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی ویڈیو دیکھ کر کشمیری نوجوانوں کا غصہ جائز ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال 8 جولائی کونوجوان حریت پسند رہنمابرہان وانی کو بھارتی فورسز نے دوساتھیوں سمیت ماوارائےعدالت قتل کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 100 افراد شہید اور 15 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں