The news is by your side.

Advertisement

سلمان خان کو قتل کرنے کی کوشش ناکام، والد کی تصدیق

ممبئی: بالی ووڈ اداکار سلمان خان فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے کہ نامعلوم افراد نے اچانک اُن پر حملہ کردیا مگر وہ خوش قسمتی سے بالکل محفوظ رہے، والد نے بھی بیٹے پر ہونے والے حملے کی تصدیق کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق  دبنگ خان کالے ہرن کو مارنے کے کیس کی سماعت پر جب پیر کے روز جود پور پہنچے تو انہیں ریاست راجھستان کے بدنامِ زمانہ بدمعاش لارنس بشونی نامی بدمعاش نے قتل کی دھمکی دی۔

لارنس نامی شخص نے سلمان خان کو نچلی ذات کی برادری کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرنے پر سنگین نتائج کی بھی دھمکی تھی جس کے پیش نظر کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی بھاری نفری کو عدالت کے باہر تعینات کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کی 28 برس قبل آنے والی فلم کامیاب کیوں ہوئی؟

سلمان خان اور جیکو لین فرنینڈس ممبئی میں اپنی نئی آنے والی فلم ریس 3 کی شوٹنگ میں  بدھ کے روز مصروف تھے کہ اچانک سیٹ پر نامعلوم مسلح افراد حملہ  آور ہوئے اور اُن کا نشانہ دبنگ خان ہی تھے۔

سلمان خان کے محافظوں نے حملے کو ناکام بنایا جس کے بعد فلم ڈائریکٹر رمیش ترانی نے پولیس کمانڈوز کو طلب کیا اور سلمان خان کو باحفاظت گھر منتقل کیا گیا، ریس 3 کی شوٹنگ کو حملے کے بعد کو کچھ روز کے لیے روک دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’سلمان خان پر حملے میں ممکنہ طور پر بشونی ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ ملزم نے دبنگ خان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جنہیں سنجیدگی سے لے رہے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کی فلم ’ ٹائیگرزندہ ہے‘ نے423 کروڑکمالیے

دبنگ خان کے والد سلیم خان نے بیٹے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے اس حملے کے محرکات کا علم نہیں مگر جب میں سیٹ سے نکل گیا تو سلمان خان پر حملہ کیا گیا تاہم وہ بالکل محفوظ ہے‘۔

ساتھی اداکاروں اور سلمان خان کے مداحوں کو جب حملے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے دبنگ خان خیریت طلب کی اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

واضح رہے کہ فلم ٹائیگر زندہ ہے کی تشہیر کے دوران سلمان خان اور شلپا شیٹھی نے نجی پروگرام میں راجھستان برادری کے لیے لفظ ’بھنگی‘ کا استعمال کیا تھا جس پر بھارت میں ہنگامے پھوٹے اور اداکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گیے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں