The news is by your side.

Advertisement

آسٹریلیا نے دو روسی سفیروں کو ملک بدر کردیا

سڈنی : برطانیہ اور روس کا تنازعہ تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے،امریکا کے بعد آسٹریلیا نے بھی برطانیہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے روسی سفیروں کی ملک بدری کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں سابق روسی جاسوس کو قتل کرنے کی کوشش کے بعد جنم لینے والے عالمی بحران کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے. برطانیہ کے بعد 23 سے زائد ممالک اب تک 100 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرچکے ہیں جو تاریخ کی سب سے بڑی بے دخلی ہے۔

آسٹریلیا نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے 2 روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے حکم دیا ہے۔ آسٹریلیوی وزارتِ عظمیٰ نے اپنے ایک بیان میں اسے اپنے اتحادی برطانیہ پر حملے کا ردعمل قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹرنبُل کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے سالسبری میں کی گئی شرمناک کارروائی تمام ممالک پر حملہ ہے۔ پیر کے روز امریکا اور یورپی یونین سے ہم آہنگی کے بعد 20 سے زائد ممالک نے روس کے100 سے زیادہ سفیروں کو ملک بدر کیا ہے۔

روس نے اپنے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے والے ممالک کے اشتعال انگیز عمل پر رد عمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ روس برطانیہ کے شہر سالسبری میں زخمی ہونے والے سابق جاسوس پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو بھی مسلسل مسترد کررہا ہے۔

آسٹریلیوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ روس کے اقدامات امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت اور ہمارے دوست ممالک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں یہ ایک بڑی تعداد ہے روس کے انٹیلی جنس افسران کی جنہیں برطانیہ کی حمایت میں 20 سے زائد ممالک نے اپنی مملتکوں سے ملک بدر کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روس نے کئی ممالک کی سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممالک کی سالمیت کو نقصان پہچانے کی کوشش کی ہے، اس لیے دنیا کے 23 ممالک کی حکومتوں نے روس کی لاقانونیت اور لاپرواہی کے خلاف یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی جانب سے 23 روسی سفیروں کی ملک بدری کے بعد درج ذیل ممالک نے پیر کے روز برطانوی حکومت سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے روسی سفارت کاروں کی ملک بدری کا اعلان کیا تھا۔

اب تک روس کے 100 سے زائد سفارت کاروں کو متعدد ممالک سے ملک بدر کیا جاچکا ہے جن میں امریکا سے 60، یوکرائن سے 13، کینیڈا سے 4، البانیا سے 2، اسٹریلیا سے 2، ناروے سے 1، جبکہ یورپی یونین نے کُل 33 سفیروں کو ملک بدر کیا ہے۔

جبکہ آئس لینڈ کی حکومت نے روسی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ روس میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔


امریکا نے 60 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا


یاد رہے کہ برطانیہ میں‌ مقیم روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہر دیے جانے کا الزام برطانوی حکومت نے روسی پر عاید کیا تھا اور 23 روسی سفارت کاروں کوملک بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواباً روس نے بھی 23 برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد روسی صدر نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ سابق روسی جاسوس پر برطانیہ نے حملہ کروایا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں