The news is by your side.

Advertisement

آسٹریا میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی

ویانا : آسٹریا میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے، جس کی خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا، فیصلے سے وہاں رہنے والے مسلمان خوش نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سٹریا میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے، چہرے کے نقاب پر پابندی کے قانون کے تحت سر کے سامنے کے بالوں کی لکیر سے لے کر ٹھوڑی تک چہرہ کھلا رکھنا ہوگا۔

چہرے کا نقاب کرنے والی خواتین کے خلاف 150 یورو کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

آسٹریا میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کے حکومتی فیصلے سے مسلمان خوش نہیں، مسلمان تنظیموں نے اس قانون کی مذمت کردی۔ آسٹریا میں بہت کم تعداد میں مسلمان پورے چہرے کا نقاب کرتے ہیں۔

سیاحتی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہ اس اقدام سے خلیجی ممالک سے آنے والے سیاحوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔


مزید پڑھیں : جرمنی میں خواتین کےنقاب پہننے پرپابندی


آسٹریا میں اگلے الیکشن ہو رہے ہیں، نقاب پر پابندی کے اقدام سے راٹئسٹ جماعت فریڈم پارٹی کو انتخابات میں فائدہ ہوسکتا ہے، برقع اور نقاب کیساتھ میڈیکل ماسک اور کلاؤن میک اپ پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیر بیلن نے خواتین کے نقاب کرنے اور عوام میں قرآن کے نسخے تقسیم کرنے پر عائد پابندی کی منظوری دی تھی۔

واضح رہےکہ فرانس،آسٹریا،بیلجیئم،ڈنمارک،روس،اسپین،سوئٹزرلینڈ اور ترکی میں پہلے ہی عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہے جبکہ نیدرلینڈز میں بھی نقاب پر پابندی کا قانون زیرغور ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں