The news is by your side.

Advertisement

بنگلا دیش : ہراسگی کی شکار اسکول طالبہ کو زندہ جلانے کا مقدمہ ہیڈ ماسٹر کے خلاف درج

اسکول کی چھت پر برقع پوش لڑکوں نے مقدمہ واپس نہ لینے کی پاداش میں آگ لگا کر لڑکی کو مار ڈالا

ڈھاکہ : بنگلا دیش میں جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرانے والی انیس سالہ طالبہ کو زندہ جلانے کا مقدمہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف درج کرلیا گیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق دو ہفتے قبل اسکول کی طالبہ نصرت جہاں رفیع نے اپنے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرایا تھا، پولیس نے لڑکی سے ہمدردی اور اہل خانہ سے تعاون کرنے کے بجائے لڑکی کا ویڈیو بیان لیا۔

ویڈیو بیان کے دوران لڑکی بار بار اپنا چہرہ چھپاتی رہی جب کہ پولیس انسپکٹر یہی کہتا رہا کہ کچھ نہیں ہوا ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔ انیس سالہ طالبہ کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

جس کے بعد لڑکی کو ہیڈ ماسٹر کے حامیوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں اور طالبہ کو اسکول آنے سے روک دیا گیا تاہم گیارہ روز بعد نصرت جہاں سالانہ امتحان دینے اپنے بھائی کے ساتھ اسکول پہنچی۔

انتظامیہ نے بھائی کو باہر ہی روک دیا اور لڑکی کو اندر جانے کی اجازت دے دی گئی جہاں اسے دھوکے سے اسکول کی چھت پر بلایا گیا اور برقع پوش لڑکوں نے مقدمہ واپس نہ لینے کی پاداش میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

نصرت کے بھائی نے دم توڑتی بہن کا ایمبولینس میں ہی ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جس میں لڑکی نے کہا تھا کہ جنسی ہراسانی کے خلاف آخری سانس تک لڑوں گی۔

نصرت کا جسم 80 فیصد تک جھلس گیا تھا بعد ازاں وہ جانبر نہ ہوسکی جس پر پولیس نے 17 افراد کو حراست میں لے لیا جن میں سے ایک نے ہیڈ ماسٹر کے کہنے پر طالبہ کو آگ لگانے کا جرم تسلیم بھی کرلیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں