site
stats
اہم ترین

لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں، نوازشریف

شیخوپورہ : وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والے احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں، بھکی پاور پلانٹ کو صرف اٹھارہ ماہ میں مکمل کیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیخوپورہ میں بھکی پاور پلانٹ منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 18ماہ پہلے بھکی پاورپلانٹ منصوبے کاسنگ بنیاد رکھا اور اٹھارہ ماہ کے قلیل عرصے میں اتنا بڑا منصوبہ دیکھ رہے ہیں۔

اٹھارہ ماہ میں تو ایک گھر بھی تعمیر نہیں ہوتا

وزیراعظم نے کہا کہ 18 ماہ میں تو ایک گھر بھی تعمیر نہیں ہوتا، لواری ٹنل  40 سال سے بن رہی ہے، ابھی تک مکمل نہیں ہوئی جبکہ لواری ٹنل کو چند سال میں مکمل کیا جاسکتا تھا۔

دن رات محنت نہ کرتے تویہ منصوبہ بھی 15سال میں مکمل ہوتا

انہوں نے بتایا کہ بھکی پاور پلانٹ پر 77ارب روپے خرچ ہوئے اور منصوبے میں 53ارب روپے کی بچت ہوئی۔ جبکہ بلوکی منصوبہ 84ارب میں مکمل ہوگا،52ارب روپے کی بچت ہوگی، حویلی بہادر شاہ کا خرچ 90ارب اوربچت 49ارب روپے ہوگی،دن رات محنت نہ کرتے تویہ منصوبہ بھی 15سال میں مکمل ہوتا

پی پی رہنماؤں کو دھمکیاں دیتے ہوئے شرم آنی چاہیئے 

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، احتجاج کی دھمکی بھی وہ لوگ دے رہے ہیں جو خود لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہیں، وزیر اعظم نے پی پی رہنماؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ آپ لوگوں کو ایسی دھمکیاں دیتے ہوئے شرم آنی چاہئے، آپ کا بویا ہوا ہم کاٹ رہے ہیں، 2013میں آئے تو آتے ہی بجلی منصوبوں پرلگ گئے.

وزیراعظم نوازشریف کا کہناتھا کہ بلوکی اور حویلی بہادرشاہ کی ٹربائین میں تاخیر ہوئی ہے، چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ مئی میں آرہا ہے، تربیلافور2018فروری میں کام شروع کردے گا، جبکہ نیلم جہلم منصوبہ جون تک کام کا آغاز کردے گا۔

لوڈشیڈنگ  دریاؤں میں پانی کی قلت کی وجہ سے ہے

وزیراعظم نے بتایا کہ جون2018تک 8946میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی،انہوں نے بھی لوڈشیڈنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی وجہ دریاؤں اورڈیموں میں پانی کی قلت ہے، لیکن بجلی کی کمی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا، بجلی آنے پر اس کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، بجلی کے جتنے منصوبے ستّر سال میں لگے اتنے ہم نے تین سال میں لگائے۔

موٹر وے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اس دور میں موٹروے نے لاہور سے آگے کا سفرشروع کیا ہے، کراچی سے حیدرآباد کے درمیان موٹروے پرکام جاری ہے، امید ہے 2019تک لاہور ملتان موٹروے مکمل ہوجائے گی، بلوچستان میں ہم نے سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے، گوادر میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی ہورہی ہے، وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ میں نام نہیں لیناچاہتا صوبائی حکومتیں کچھ کرتیں تو نظربھی آتا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ ہم بنا کر گئے تھے، اسے چھوٹا کر دیا گیا ہے، جنہوں نے ایئرپورٹ کو چھوٹا کیا ان سے پوچھا جائے کہ ملک کو اندھیروں میں کیوں چھوڑ کر گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کیلئے مزید محنت کرنا ہو گی، صرف 2018ء کو نہیں، 25 سال آگے دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے کئی منصوبے تعمیر ہو رہے ہیں،

ملک کو عطیم سے عظیم تر بنانا ہمارا خواب ہے، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے نام لئے بغیر پی پی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے کچھ کیوں نہیں کیا؟

جنہوں نے بیڑا غرق کیا وہی بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاور پلانٹ کی تکمیل پر شہباز شریف کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top