site
stats
شاعری

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے
نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے

تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا
کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے

نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر
یہ کیسی شام ِخرابات ہو گئی پیارے

وفا کا نام نہ لے گا کوئی زمانے میں
ہم اہل دل کو اگر مات ہو گئی پیارے

تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

*********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top