The news is by your side.

Advertisement

شاعری

جون ایلیا: باغی اور روایت شکن شاعر

روایت شکنی، اختلافِ رائے، مباحث اور کسی بھی بات کا رد شاید بھائی جون کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ اس سے محظوظ ضرور ہوتے تھے، مگر مجلس میں دلیل، منطق اور مثال دے کر اپنا مؤقف سب کے سامنے رکھتے۔ علمی مباحث اور فکر کا اظہار کرتے ہوئے جون ایلیا…

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو میرا دل گوشہ تنہائی میں گھبرائے گا لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا عزم پختہ ہی سہی ترک…

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی وہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی اس شور تلاطم میں کوئی کس…

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں…

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے وہ آگے آگے تیز خرام میں اس کے پیچھے پیچھے افتاں خیزاں آوازیں دیتا شور مچاتا کب سے رواں ہوں برگ خزاں ہوں جب میں اکتا کر رک جاؤں گا وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر مجھ سے آنکھیں چار کرے…

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی فسانہ جگر لخت لخت ایسا تھا ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک…

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجیئے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجیئے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا مگر…

اظہار اورسائی

مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں بات کہنے کے بہانے ہیں بہت آدمی کس سے مگر بات کرے؟ بات جب حیلہ تقریب ملاقات نہ ہو اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند بات کی غایت ِغایات نہ ہو ایک ذرہ کفِ خاکستر کا شرر جستہ کے مانند کبھی کسی انجانی…

خودکشی

کر چکا ہوں آج عزم آخری شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواں صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میں تیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوں منہ بسورے، رہ گزاروں سے لپٹتے، سوگوار گھر…

دستور: میں نہیں مانتا‘ میں نہیں مانتا

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں…