The news is by your side.

Advertisement

شاعری

کلام عید: چلو پھر سے مسکرا دیں!

عید آئی ہے کیسی دھوم دھام سے مناتے ہیں مسلمان ، اسے بڑی شان سے کہیں بنتی ہیں سوّیاں تو کہیں شیر خورما سجتا ہے دستر خوان پر، بریانی اور قورمہ نت نئے رنگوں کی پوشاک ہے پہنی جاتی رنگِ حنا ہاتھوں کی ، زینت بھی ہے بڑ ھاتی ہنسنا ،…

گزرے دنوں ۔۔۔ وہ جو پرندے گئے جاں سے! شاعر : کاشف شمیم صدیقی

(پنچھی نامہ) گزرے دنوں ۔۔۔ وہ جو پرندے گئے جاں سے! ***** زندگی حَسین تھی خوبصورت رنگین تھی میں اُڑتا تھا تازہ ہواﺅں میں ، لیتا تھا سانسیں ، کھُلی فضاﺅں میں اُڑتا پھرتا تھا میںخوب چہچہاتا ، ، پروں کو پھیلاتا  کبھی اُوپر چلا جاتا  …

کرونا وائرس: اموات کی تعداد 722، امریکی شہری بھی ہلاک، دنیا کا بڑا آٹو پلانٹ بند

بیجنگ: چین میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 722 ہو گئی ہے، غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وائرس سے چین میں 34 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں 2 ہزار سے زائدکی حالت تشویش ناک ہے۔ تفصیلات کے مطابق چین میں مہلک کرونا وائرس سے ہونے…

جون ایلیا: باغی اور روایت شکن شاعر

روایت شکنی، اختلافِ رائے، مباحث اور کسی بھی بات کا رد شاید بھائی جون کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ اس سے محظوظ ضرور ہوتے تھے، مگر مجلس میں دلیل، منطق اور مثال دے کر اپنا مؤقف سب کے سامنے رکھتے۔ علمی مباحث اور فکر کا اظہار کرتے ہوئے جون ایلیا…

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو میرا دل گوشہ تنہائی میں گھبرائے گا لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا عزم پختہ ہی سہی ترک…

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی وہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی اس شور تلاطم میں کوئی کس…

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں…

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے وہ آگے آگے تیز خرام میں اس کے پیچھے پیچھے افتاں خیزاں آوازیں دیتا شور مچاتا کب سے رواں ہوں برگ خزاں ہوں جب میں اکتا کر رک جاؤں گا وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر مجھ سے آنکھیں چار کرے…

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی فسانہ جگر لخت لخت ایسا تھا ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک…

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجیئے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجیئے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا مگر…