The news is by your side.

Advertisement

شاعری

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو میرا دل گوشہ تنہائی میں گھبرائے گا لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا عزم پختہ ہی سہی ترک…

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

کیا کہیئے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی وہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی اس شور تلاطم میں کوئی کس…

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں…

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے وہ آگے آگے تیز خرام میں اس کے پیچھے پیچھے افتاں خیزاں آوازیں دیتا شور مچاتا کب سے رواں ہوں برگ خزاں ہوں جب میں اکتا کر رک جاؤں گا وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر مجھ سے آنکھیں چار کرے…

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی فسانہ جگر لخت لخت ایسا تھا ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک…

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجیئے یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجیئے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجیئے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا مگر…

اظہار اورسائی

مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں بات کہنے کے بہانے ہیں بہت آدمی کس سے مگر بات کرے؟ بات جب حیلہ تقریب ملاقات نہ ہو اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند بات کی غایت ِغایات نہ ہو ایک ذرہ کفِ خاکستر کا شرر جستہ کے مانند کبھی کسی انجانی…

خودکشی

کر چکا ہوں آج عزم آخری شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواں صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میں تیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوں منہ بسورے، رہ گزاروں سے لپٹتے، سوگوار گھر…

دستور: میں نہیں مانتا‘ میں نہیں مانتا

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں…

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے…