ساتھی -
The news is by your side.

Advertisement

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں
تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے
وہ آگے آگے تیز خرام
میں اس کے پیچھے پیچھے
افتاں خیزاں
آوازیں دیتا
شور مچاتا
کب سے رواں ہوں
برگ خزاں ہوں
جب میں اکتا کر رک جاؤں گا
وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر
مجھ سے آنکھیں چار کرے گا
پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا
پھر میں
منہ توڑ کے
تیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا
اپنے نقش قدم روندوں گا
اب وہ دل تھام کے
میرے پیچھے لپکتا آئے گا
ندی نالے
پتھر پربت پھاند آ جائے گا
میں آگے آگے
وہ پیچھے پیچھے
دونوں کی رفتار ہے اک جیسی
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے
وہ مجھ کو یا میں اس کو پا لوں
*********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں