The news is by your side.

Advertisement

اسامہ بن لادن کا گارڈ جرمنی میں رہایش پذیر ہے:جرمن حکومت کا انکشاف

برلن : جرمنی کی مذہبی جماعتوں کے مطالبے پر حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ کا دہشت گرد اور سنہ 2000 میں اسامہ بن لادن کی سیکیورٹی پر مامور شخص گذشتہ کئی برس سے جرمنی میں رہائش پذیر ہے.

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک جرمنی کی علاقائی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ مبینہ دہشت گرد اور سنہ 2000  میں القاعدہ کے بانی اور سربراہ اسامہ بن لادن کی سیکیورٹی پر مامور شخص گذشتہ کئی برس سے جرمنی میں رہائش پذیرہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ تیونس سے تعلق رکھنے والا یہ شخص سنہ 1997 سے جرمنی میں مقیم ہے، حکومت کی جانب سے مذکورہ شخص کو ماہانہ بنیادوں پر ویلفیئر کی مد میں 1168یورو دیئے جاتے ہیں۔

اسامہ بن لادن کے محافظ کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات علاقائی حکومت نے اس وقت شائع کیں، جب دائیں بازو کی جماعت کی جانب سے سمیع اے نامی شخص کی معلومات کا مطالبہ کیا گیا۔

جرمنی کے خبر رساں اداروں نے مذکورہ شخص کو لاحق خطرات کے باعث مکمل نام شائع نہیں کیا ہے۔

پولیس نے سنہ 2005 میں سمیع کو القاعدہ سے تعلق کے شبے  میں گرفتار کرکے دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت میں عینی شاہد نے گواہی دی تھی کہ مذکورہ شخص سنہ 2000 میں کئی مہینے تک اسامہ بن لادن کے باڈی گارڈ کے طور افغانستان میں گزارچکا ہے۔ تاہم سمیع اے نے مذکورہ گواہ کے بیان کی تردید کی تھی، لیکن جج نے گواہی پر یقین کیا تھا۔

 

جرمن پولیس نے سنہ 2006 میں دوبارہ سمیع اے کو القاعدہ سے تعلق کے شبے میں گرفتار کرکے تفتیش کی تھی، البتہ ان پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

مذکورہ شخص سنہ 2005 سے اپنی جرمن نژاد اہلیہ اور چار بچوں کے ہمراہ جرمنی کے مغربی شہر بوچم منتقل ہوگیا تھا۔

سمیع اے نے سنہ 2007 میں حکومت کو سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی لیکن جرمن حکومت نے مذکورہ شخص کو جرمنی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی۔

جس کے بعد سے سمیع اے کو القاعدہ سے مبینہ تعلق کے شک میں روزانہ کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانی پڑتی ہے۔

سمیع اے نے القاعدہ یا دیگر جہادی تنظیموں کے رابطے کو مسترد کیا ہے، جس کے بعد جرمنی کی حکومت نے مذکورہ شخص کو تشدد کے خدشات کے پیش نظر تیونس منتقل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

جرمنی کی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یورپ کنونشین کے مطابق انسانوں پر تشدد کرنے پر پابندی ہے، اس لیے مشتبہ افراد کو تیونس اور عرب ممالک میں منتقل نہیں کیا، کیوں کہ شمالی افریقہ میں ان پر تشدد کے خطرات ہیں۔

اسامہ بن لادن عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے بانی اور سابق سربراہ ہیں، جنہیں امریکی افواج نے سنہ 2001 میں پاکستان میں خفیہ آپریشن کے دوران ہلاک کیا تھا۔

خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2001 میں امریکا کے ٹریڈ ٹاورز پر حملہ کرنے والے 3 خودکش حملہ آور، حملے سے قبل ہیمبرگ میں القاعدہ کے سیل سے منسلک تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں