The news is by your side.

Advertisement

دبئی‘بٹ کوائن کا لالچ دے کر 70 لاکھ درہم لوٹنے والا گروہ گرفتار

دبئی : متحدہ عرب امارات میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ایشیائی بھائیوں کو بٹ کوائن کا لالچ دے کر 70 لاکھ درہم لوٹنے والے 10 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا.

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سیکیورٹی اداروں نے گذشتہ روز دبئی کے علاقے المقربات میں کارروائی کرتے ہوئے دو بھائیوں کو دھوکا دینے والے 10 افراد پر مشتمل گروہ کو گرفتار کرکے ستر لاکھ درہم کی خطیر رقم برآمد کرلی ہے۔

دبئی پولیس نے ہفتے کے روز بیان جاری کیا تھا جس میں پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ گروہ نے دو ایشیائی بھائیوں کو بٹ کوائن کا لالچ دے کر کسی آفس میں لے گیا تھا، جہاں انہوں نے دونوں بھائیوں پر حملہ کرکے تشدد کیا اور رقم لے کر موقع سے فرار ہوگئے۔

کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر لیفٹینٹ کرنل عدیل الجواکر کا کہنا تھا کہ ’پولیس کو 25 اپریل کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ایک گینگ نے دو بھائیوں کو دھوکا دے کر رقم لوٹی ہے‘۔

کرنل عدیل الجواکر کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ بھائیوں کو بٹ کوائن(برقی کرنسی) فروخت کرنے والوں کی تلاش تھی، مذکورہ گینگ نے انہیں لالچ دی اور دعویٰ کے کہ وہ بٹ کوائن فروخت کرتے ہیں‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران گینگ کے سربراہ نے دکان اور دکان کا لائسنس فروخت کرنے ایک شخص کو بھی دھوکا دیا، جس نے اپنا شو روم فروخت کرنے کے لیے اشتہار دیا تھا۔

گینگ کے سربراہ نے دکان خریدنے کا دعویٰ کیا جس پر دکان کے مالک نے شو روم دیکھنے کے لیے دکان کی چابیاں اسے دے دیں، گینگ کے سربراہ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں بھائیوں کو مذکورہ شوروم میں بلالیا۔

پولیس نے عرب میڈیا کو بتایا کہ دوران واردات گینگ کے چھ ارکان نے آفس کے اندر دونوں بھائیوں سے ملاقات کی اور باقی چار افراد باہر انتظار کرتے رہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جیسے دونوں بھائی آفس میں داخل ہوئے گینگ کے افراد نے ان پر حملہ کرکے تشدد کیا اور دونوں کے ہاتھ باندھ کر کمرے میں بند کردیا اور رقم لیکر موقع سے فرار ہوگئے۔

دبئی پولیس کے کمانڈر انچیف میجر جنرل عبداللہ خلیفہ المیری کا کہنا ہے کہ پولیس افسران قابل تحسین ہیں جنہوں نے مذکورہ گینگ کو بغیر کسی ثبوت کے تھوڑے وقت میں گرفتار کرلیا۔

جنرل عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس حکام نے مذکورہ گینگ کو اسمارٹ منصوبہ بندی اور مصنوعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریس کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں