The news is by your side.

Advertisement

ناز شاہ کے بعد ایک اور برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے پر وضاحت مانگ لی

لندن : برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے پر وضاحت مانگ لی اور کہا اگر کیسز کو دیکھا جائے تو پاکستان کو اس فہرست میں ڈالنے کا جواز نہیں بنتا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کوریڈلسٹ میں ڈالنے پر برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ کے ایک اور رکن پارلیمنٹ سار اوون نے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ سار اوون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں نے وزیر خارجہ ، ٹرانسپورٹ اور صحت کے سیکرٹری کو خط لکھا ہے اور پوچھا ہے کہ وہ کن بنیادوں پر ممالک کو ریڈ لسٹ کر رہے ہیں، اگرکیسزکودیکھاجائےتوپاکستان کواس فہرست میں ڈالنےکاجوازنہیں بنتا، میں نے برطانوی حکومت سےاس فیصلے کی وضاحت مانگی ہے۔

گذشتہ روز برطانوی ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ نے وزیر خارجہ ڈومینک راب کو خط لکھ کر برطانوی ریڈ لسٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں کس سائنٹفک بنیاد پر ڈالا گیا، جب کہ فرانس، جرمنی اور بھارت کی نسبت پاکستان میں کرونا کیسز کی شرح کم ہے۔

انھوں نے خط میں لکھا کہ برطانوی حکومت اپنے عوام کے تحفظ کی بجائے سیاسی فیصلے کر رہی ہے، حکومت کا یہ اقدام پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں : برطانوی ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ نے ریڈ لسٹ پر سوالات اٹھا دیے

ناز شاہ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت ریڈ لسٹ سے متعلق مربوط لائحہ عمل نہیں رکھتی؟ جنوبی افریقا سے کرونا کی نئی قسم پاکستان کو متاثر نہیں کر رہی، اس پس منظر میں برطانیہ نے فرانس، جرمنی، بھارت کو ریڈ لسٹ میں کیوں شامل نہیں کیا؟

یاد رہے کورونا کی تیسری لہرکا موجب بننے والےبرطانیہ نےپاکستان کو ہی ریڈ لسٹ میں شامل کردیا تھا، جس کے بعد 9اپریل سےپاکستان سے برطانیہ آنےوالوں کو10دن ہوٹل قرنطینہ کرناہوگا۔

ہوٹل قرنطینہ کے اخراجات مسافر خود ادا کرے گا ، مسافر کو ہوٹل قرنطینہ کے تقریباً 1700 پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں