The news is by your side.

Advertisement

ہنگری: منتخب وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پرآگئے 

بڈاپسٹ: ہنگری میں ہزاروں افراد حال ہی میں منتخب ہونے والے دائیں بازو کی حکومت کے وزیراعظم وکٹر اوربان کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے‘ حکومت کو کرپٹ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہنگر ی کے دارالحکومت بڈا پسٹ میں ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے میں  ہزاروں افراد نے حال ہی میں منتخب ہونے والے وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انتخابی نظام  کو غیر منصفانہ قرار دے دیا۔ عوام کی ایسی ہی کثیر تعداد وزیراعظم کے خلاف گزشتہ ماہ بھی سڑکوں پر آئی تھی۔

یہ احتجاج انتخابات کے محض چھ دن بعد ہی شروع ہوگیا ہے جس میں  فائدیز نامی حکومتی پارٹی کل رجسٹرڈ ووٹوں کی نصف تعدادحاصل کرکے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ایک بار پھر منتخب ہوئی تھی۔ اوربان  کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ امیگریشن کے سخت ترین مخالف ہیں جس کے سبب انہیں پسند نہیں کیاجاتا ۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ احتجاج فیس بک کے ایک گروپ کی جانب سے شروع کیا گیا ہے  جس کا نعرہ’ہم اکثریت ہیں‘ ہے۔ اپنی اکثریت کا اظہار کرنے کے لیے عوام کی کثیر تعداد بڈاپسٹ کی سڑکوں پر امڈ آئی تھی۔ فیس بک  گروپ کی انتظامیہ کی جانب سے آئندہ ویک اینڈ پر اسی نوعیت کے ایک اور بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق کم ازکم ایک لاکھ افراد نے ہفتے  کے روز ہونے والے اس احتجاج میں شرکت کی تھی اور ان میں سے بیشتر نے ہنگری اور یورپین یونین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری دارالحکومت میں تعینات کی گئی تھی جن میں خصوصی طور پر فسادات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے افسران کو سامنے لایا گیا تھا ، تاہم احتجاج پر امن رہا اور عوام اپنا مطالبہ حکومت کے سامنے پیش کرکے واپس پر امن طریقے سے گھروں کو لوٹ گئے۔

اورگنائزرز کا کہنا ہےکہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک اسی  قسم کے مظاہروں کا انعقاد کرتے رہیں گے۔ مظاہرے سے خطاب کرنے والے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ وکٹر اوربان نے دھاندلی کے ذریعے الیکشن ہتھیا یا ہے جبکہ کرپشن اور اختیارات کا غلط استعمال بھی ان کے عہد ِ حکومت جاری رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں