The news is by your side.

Advertisement

شاعری

اظہار اورسائی

مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں بات کہنے کے بہانے ہیں بہت آدمی کس سے مگر بات کرے؟ بات جب حیلہ تقریب ملاقات نہ ہو اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند بات کی غایت ِغایات نہ ہو ایک ذرہ کفِ خاکستر کا شرر جستہ کے مانند کبھی کسی انجانی…

خودکشی

کر چکا ہوں آج عزم آخری شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواں صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میں تیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوں منہ بسورے، رہ گزاروں سے لپٹتے، سوگوار گھر…

دستور: میں نہیں مانتا‘ میں نہیں مانتا

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں…

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے…

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی…

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے…

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اُس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی تیرا پہلو، ترے دل کی…

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے پھر موسمِ بہار مرے گلستاں میں ہے اِک خواب ہے کہ بارِ دگر دیکھتے ہیں ہم اِک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے تابِش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سوا جگنو سی یہ زمیں جو کفِ آسماں میں ہے اِک شاخِ یاسمین تھی…

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا وہ جب آئے…

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا ساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیا اس طرح کھینچی ہے میرے گرد دیوار خبر سارے دشمن روزنوں کو بے نظر اس نے کیا مجھ میں بستے سارے سناٹوں کی لے اس سے بنی پتھروں کے درمیاں تھی نغمہ گر اس نے کیا بے سر و…