The news is by your side.

Advertisement

کرونا: ایک نادر وبا میں “نایاب” قوم کا طرزِ عمل!

تحریر: شیر بانو معیز

گھر کے اندر، باہر، گھر والے، باہر والے، کاروباری اور نوکری پیشہ، ڈاکٹر، انجینئر، میڈیا ورکر الغرض دنیا کا ہر فرد کورونا وائرس کی بات کرتا نظر آرہا ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں یہ وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے لیکن یقین جانیے کہ کورونا نے تو لوگوں کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ کوئی کھانستا ہے تو اس سے خوف آتا ہے، چھینک مار دے تو سامنے والا فکرمند ہوجاتا ہے، وائرس سے زیادہ بھوک سے مرنے کی فکر ہے۔ اگلے پل کی خبر نہیں لیکن سامان سو برس کا جمع کیا جارہا ہے۔

گھر میں سامان سڑ جائے پروا نہیں ، بس کسی دوسرے کے پیٹ میں جانے کے لیے اسٹور کے شیلف پر دستیاب نہ ہو ۔ گویا ذخیرہ اندوزی ہی کورونا سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔

کون کہتا ہے کہ کورونا نے کاروبار ٹھپ کردیا ہے۔ یہاں تو کئی بزنس راتوں رات پھل پھول گئے۔ ماسک اور اب سینیٹائرز کے بزنس کو ہی لے لیجیے۔ پرچون والوں کی تو چاندی ہو ہی گئی اب ادرک بیچنے والوں کی باری ہے۔ کیوں کہ کورونا سے بچاؤ کے ٹوٹکے بھی کورونا کی طرح ہی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

پریشانی کا عالم ہے لیکن بھلا ہو میم بنانے والوں کا جنہوں نے کورونا کو بھی نہیں چھوڑا۔ ایک دعا تو آج کل سب کی زبان پر ہے کہ یا اللہ کافروں کو ویکسین بنانے میں مدد عطا فرما کیوں کہ تیرے ماننے والے تو ماسک اور سینیٹائزر بنانے میں مشغول ہیں۔

جتنے مزاحیہ میمز ہیں اس سے کہیں زیادہ پرلطف کورونا سے بچاؤ کے لیے ہمارے انتظامات ہیں۔

سرحد پر بنے قرنطینہ مرکز کی اصل ویڈیو اگر نظروں سے گزر جائے تو یقین جانیے کورونا بھی شرما جائے۔ آئیسولیشن کے نام پر ایک کمبل میں چار چار افراد ساتھ لیٹے ہیں۔ موبائل فون چارج کرنے کے لیے وہاں ہجوم موجود ہے۔ ایک ہال میں لوگوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ صحت مند افراد کو متاثرین سے پانچ فٹ دور رہنے کی ہدایت ہے لیکن قرنطینہ میں اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

دال چاول سمیت کئی ٹھیلے والے بھی قرنطینہ کے باہر ڈیرہ ڈالے ہیں۔ اب ایسی صورت حال کے بعد اگر مریض صحت مند ہو جانے کا سرٹیفکیٹ لے بھی لے تو سکھر پہنچنے والے تیرہ متاثرہ لوگوں جیسا ہی احال ہونا ہے۔

بلوچستان کی حکومت نے ان انتظامات پر معذرت کرلی، لیکن سائیں سرکار درست ہی تو خفا ہوئی کہ قرنطینہ میں وائرس پھیلانے سے بہتر تھا کہ ایران سے آنے والے سندھ کے باسیوں کو پہلے ہی صوبے میں بھیج دیتے، اتنا تو ہوتا کہ وہ سب ٹھیک ہے کا سرٹیفکیٹ لے کر گھومتے پھرتے دوسروں کو متاثر نہ کرتے۔ راتوں رات کیسز کی تعداد میں اضافہ ہونا باعث تشویش ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ قرنطینہ کے نام پر جو مذاق ہوا اس کا خمیازہ بھگتنا ابھی باقی ہے۔ ایسی صورت حال میں ماسک، سینٹائرز، ذخیرہ اندوزی نہیں بلکہ احتیاط اور احساس ذمہ داری ہی ہمیں اس وائرس سے بچا سکتا ہے۔

کورونا وائرس سے اموات کی شرح تو صرف دو فی صد ہے، لیکن ذخیرہ اندوزی، خود غرضی اور بداحتیاطی کا وائرس زیادہ جانیں لے سکتا ہے۔

ہمیں اس پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں