The news is by your side.

Advertisement

داعش کی خواتین ٹائم بم کی مانند ہیں، غیرسرکاری یورپی گروپ

برسلز : یورپ میں داعشی خواتین یا داعش کے جیسے علاقوں سے واپس لوٹنے والی خواتین کو دلہنوں کے طور پر نہیں بلکہ ایسی سرگرم کارکنان کے طور دیکھا جانا چاہیے جو مستقبل میں حملوں میں شریک ہونے کی قدرت رکھتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برسلز میں ایک غیر سرکاری گروپ نے 326 یورپی شدت پسندوں کے متعلق معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیا،ان میں وہ مرد اور خواتین شامل تھے جن کو 2015 سے اب تک قیدی بنایا گیا یا بے دخل کر دیا گیا اور یا پھر ہلاک کر دیا گیا۔

جائزے کے بعد گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بہت سی خواتین اور نوجوان لڑکیاںغیر ملکی دہشت گرد جنگجووںمیں ایک چھوٹی سی اقلیت ہونے کے باوجود بہت بڑا خطرہ ہیں۔

جائزے میں 43 خواتین کے بارے میں معلومات شامل تھیں۔ ان میں بعض نے حملوں کی منصوبہ بندی کی، بعض نے شدت پسند خواتین کو بھرتی کیا اور بعض نے داعش تنظیم کے لیے پروپیگنڈا مہم میں سرگرم کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ معلومات کے مجموعے میں شامل 40 سے زیادہ خواتین دلہن بننے کی عمر کی ہیں اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ زیادہ پیش رفت اور جدت کا حامل رہا۔

رپورٹ کے مطابق جائزے میں شامل ایک تہائی حالتیں غیر ملکی جنگجووں سے متعلق ہیں، غالبا یہ لوگ یورپ واپس آنے پر شدت پسندوں کے گروپوں یا پر کشش نیٹ ورکس کے قائدین کا کردار ادا کرتے ہیں،حکام ان میں 38 افراد کی تلاش میں ہیں۔

اس حوالے سے سیکورٹی پالیسی سے متعلق یورپی یونین کے ذمے داران کو آگاہ کیا گیا کہ یورپ میں دہشت گردی سے متعلق جرائم میں قصور وار ٹھہرائے گئے اکثر افراد نے رہائی کے بعد بھی مماثل جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری رکھا،بسا اوقات شدت پسندی پر قابو پانے کی کوششیں ناکام رہیں۔

اس سلسلے میں مذکورہ رپورٹ کی تیاری میں حصہ لینے والے ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میں سیکورٹی امور کے محقق بارٹ شورمین کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو شدت پسندی سے دور رکھنا اکثر اوقات تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے جاری بحث اعلانیہ رہے گی مگر میرا نہیں خیال کہ یہ مفید ہے۔

شورمین اور رپورٹ پر کام کرنے والے دیگر افراد کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے جیلوں کے حکام کی توجہ زیادہ سے زیادہ اس بات پر مرکوز ہے کہ شدت پسندوں کو عام قیدیوں سے علاحدہ کیا جائے تا کہ اس انتہا پسندی کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں