The news is by your side.

سیلاب سے ملک بھر کے نظام صحت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف

اسلام آباد: سیلاب سے ملک بھر کے نظام صحت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے، سیلاب سے ملک کے چاروں صوبوں کے 1625 مراکز صحت کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 65 ارب روپے سے زائد ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت قومی صحت کے ذرائع کے ملک بھر میں سیلاب سے ہیلتھ اسٹرکچر کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے کیے گئے اسسمنٹ سروے کے دوران شعبہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ہیلتھ اسٹرکچر کو ہونے والے نقصانات سے متعلق اسسمنٹ سروے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے کیا گیا، جس کی رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیلاب سے ملک بھر میں سب سے زیادہ نقصان سندھ کے ہیلتھ اسٹرکچر کو پہنچا ہے، سندھ میں سیلاب سے 1091 مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے اور نقصانات کا تخمینہ 34 ارب 13 کروڑ سے زائد لگایا گیا ہے۔

24 گھنٹوں میں سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کے 65 ہزار 574 کیسز رپورٹ

بلوچستان میں سیلاب سے 297 مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے اور نقصانات کا تخمینہ 18 ارب 98 کروڑ 80 لاکھ لگایا گیا ہے۔

خیبر پختون خوا میں سیلاب سے 221 مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے جب کہ ہیلتھ سسٹم کو نقصانات کا تخمینہ 8 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں سیلاب سے 53 مراکز صحت مکمل تباہ ہوئے ہیں، 155 مراکز صحت کو جزوی جب کہ 13 کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختون خوا میں سیلاب سے دو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال مکمل تباہ ہو چکے ہیں جب کہ 5 کو جزوی نقصان پہنچا ہے، صوبے میں 29 بنیادی مراکز صحت اور چار دیہی مراکز صحت مکمل تباہ ہوئے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں سیلاب سے 18 کمیونٹی ڈسپنسریز مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔

وزارت قومی صحت کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے 16 مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے، راجن پور میں 7 مراکز صحت، جام پور 6 اور روجھان میں 3 مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے 16 مراکز صحت کو نقصان کا تخمینہ 7 کروڑ 55 لاکھ لگایا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں