The news is by your side.

Advertisement

بحیرہ عرب میں سمندری حیات کی ’قتل گاہوں‘ میں اضافہ

شہر کراچی کی سرحد پر حد نگاہ تک پھیلا ہوا بحیرہ عرب اپنے اندر متنوع سمندری حیات رکھتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے کچھ حصے سمندری حیات کے لیے قتل گاہ بنتے جارہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بحر ہند کے کچھ حصے میں جسے بحیرہ عرب کہا جاتا ہے، کچھ مقامات پر ڈیڈ زون بن رہا ہے اور پہلے سے موجود ڈیڈ زون میں اضافہ ہورہا ہے۔

ڈیڈ زون سمندر کا وہ مقام ہے جہاں سمندر کی تہہ تک آکسیجن موجود نہیں ہوتی لہٰذا وہاں کسی بھی سمندری حیات کے لیے رہنا ناممکن ہوتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں واقع نیویارک یونیورسٹی ابو ظہبی کے پروفیسر زہیر لشکر کے مطابق یہ ڈیڈ زون عموماً سمندر کے اندر 100 میٹر کی گہرائی سے شروع ہوجاتا ہے اور 15 سو میٹر کی گہرائی تک چلا جاتا ہے۔ ’گویا یہ ایک ستون سا بن گیا اور یہاں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا‘۔

مزید پڑھیں: پلاسٹک کا گڑھ بنتے ہمارے سمندر

ان کے مطابق اس کی وجہ عالمی حدت میں اضافہ یا گلوبل وارمنگ ہے۔

پروفیسر کا کہنا تھا کہ یہ عمل ماہی گیری کو شدید طور پر متاثر کرے گا۔ اس خطے میں موجود ساحلی آبادی کی بڑی تعداد ماہی گیری سے وابستہ ہے اور یہ ڈیڈ زون ان کے روزگار کو متاثر کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ سمندری نباتات اور سیاحت پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں