The news is by your side.

Advertisement

بیگم حمیدہ اختر حسین کا تذکرہ

بیگم حمیدہ اختر حسین نے مختلف اقسام کے پکوان کی تراکیب "پکاؤ اور کھلاؤ” کے عنوان سے اپنی ایک کتاب میں‌ پیش کی تھیں اور ان کا ایک ناول "وہ کون تھی؟” بھی منظرِ عام پر آیا تھا۔ انھوں نے بچّوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔ آئیے بیگم حمیدہ اختر حسین کی زندگی کے اوراق پلٹتے ہیں۔

وہ معروف ترقّی پسند ادیب اختر حسین رائے پوری کی شریکِ سفر تھیں۔ ان کی رفاقت میں اور ان کے طفیل اپنے وقت کے جیّد اور باکمال لکھاریوں سے ملنے، ان سے گفتگو اور صاحبِ طرز ادیبوں اور شعرا کو پڑھنے کا موقع ملا تو بیگم صاحبہ کو بھی لکھنے کی تحریک ملی۔ ادب کے مطالعے کا شوق انھیں بہت پہلے سے تھا، کیوں کہ ان کے معروف والد بھی جاسوسی ناول نگار تھے۔ گھر کی فضا علمی و ادبی تھی اور ہر طرف کتابیں نظر آتی تھیں۔ شادی ہوئی تو ایک ایسے شخص سے جو اردو ادب کی دنیا میں معروف تھا۔ یہ تھے اختر حسین رائے پوری۔

بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی آپ بیتی جس کا مرکزی موضوع، ان کے شوہر اختر حسین رائے پوری ہیں، سامنے آئی تو اسے سبھی نے منفرد قرار دیا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے بیگم صاحبہ کی ہر قدم پر راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کی جس نے انھیں‌ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔

بیگم حمیدہ کا سنِ پیدائش 1918 ہے۔ وہ 1935 میں اختر حسین رائے پوری کی رفیقِ حیات بنی تھیں جو نام ور نقاد، محقق اور ادیب تھے۔ ان کے اتنقال کے بعد بیگم حمیدہ اختر حسین کا ادبی سفر شروع ہوا۔ جلد ہی وہ اپنے اسلوب کے سبب پہچانی گئیں۔ انھوں نے خود نوشت سوانح عمری اور خاکوں کے دو مجموعے بھی یادگار چھوڑے۔

20 اپریل 2009 کو بیگم حمیدہ اختر حسین کراچی میں وفات پا گئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں