The news is by your side.

Advertisement

این سی او سی کو بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان این سی او سی کو رواں ماہ کے اختتام پرغیر فعال کرنے جا رہی ہے، یکم اپریل سے ملک میں کرونا کی صورت حال کی مانیٹرنگ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ صحت کا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کرونا مانیٹرنگ کرے گا، واضح رہے کہ سی ڈی سی قومی ادارہ صحت میں اصلاحات کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، اور یہ تاحال مکمل فعال نہیں ہے۔

ذرائع وزارت صحت کا کہنا ہے کہ این سی او سی سے ریکارڈ کی سی ڈی سی کو منتقلی کا عمل جاری ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر مارچ 2020 میں تشکیل دیا گیا تھا، این سی او سی میں ملک بھر سے کرونا کے اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں، این سی او سی کو ڈیٹا فراہمی میں پولیو ای او سی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل ویکسینیشن اسٹریٹجی کی تیاری کا سہرا این سی او سی کے سر ہے، کرونا ویکسینیشن میں ای پی آئی کے بنیادی ڈھانچے نے اہم کردار ادا کیا، ملک میں کرونا سے متعلق پابندیوں کے نفاذ سمیت تمام فیصلے این سی او سی کرتا تھا، اس مرکز کے وفاق اور صوبائی سطح پر متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز شریک ہوتے تھے، وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم، اور صحت حکام بھی شریک ہوتے تھے، این ڈی ایم اے، وزارت داخلہ، خارجہ، مذہبی امور کے حکام بھی این سی او سی کا حصہ تھے۔

این سی او سی میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر اجلاس منعقد کیے جاتے تھے، اور فیصلے وفاق، صوبے، فریقین کی مشاورت سے ہوتے تھے، این سی او سی کے فریقین کی مشاورت سے کیے گئے فیصلے کامیابی کی ضمانت بنے، اور کرونا میں پاکستان کی بہترین کارکردگی کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔

وفاقی وزیر اسد عمر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ ہیں، این سی او سی قومی کرونا رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی او سی کی کامیابی میں موجودہ ڈی جی ہیلتھ پاکستان کا اہم کردار رہا ہے، اس کے قیام کے وقت ڈاکٹر صفدر رانا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو، توسیع پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے سربراہ تھے، کرونا سرویلنس، ویکسینیشن نظام بنانے اور کامیابی سے چلانے میں ڈاکٹر صفدر رانا کا اہم کردار رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں