The news is by your side.

Advertisement

قازقستان میں روسی فوج کی تعیناتی پر امریکا کی بے چینی، روس کا رد عمل سامنے آ گیا

ماسکو: قازقستان میں عوامی شورش کو قابو میں کرنے کے لیے روسی فوج کی تعیناتی پر امریکا کی بے چینی کو روس نے مسترد کر دیا۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا ہے کہ روسی فوج کی قازقستان میں تعیناتی پر امریکا کی بے چینی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کچھ امریکی نمائندے سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ قازقستان میں کیا ہو رہا ہے اور اسے واشنگٹن کے سرکاری مؤقف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا تھا کہ قازقستان کے حکام کی اس درخواست کی قانونی حیثیت کے بارے میں امریکا کو تحفظات ہیں، جس کے تحت ملک میں اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (CSTO) کی افواج کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

روسی زیر قیادت اتحادی فوج کا پہلا دستہ قازقستان پہنچ گیا

زخارووا نے کہا کہ ہر کوئی اس حقیقت سے واقف ہے کہ واشنگٹن کے بعض نمائندے عالمی منظر نامے کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، یہی وجہ ہے کہ قازقستان میں روسی فوجی اتحاد کی افواج کی تعیناتی پر سوال اٹھانا قانون سے نابلد ہونا ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ قازقستان میں کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لیے روسی فوجی اتحاد کے امن دستے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، اور اس سلسلے میں پہلے دستے کی آمد گزشتہ روز ہوئی۔

روس کے زیر قیادت فوجی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قازقستان میں 2500 فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ بھیجا گیا ہے، قازقستان میں صورت حال معمول پر آنے تک فوج قازقستان میں رہے گی۔

یاد رہے کہ قازقستان کی حکومت نے ملک میں جاری بدامنی روکنے کے لیے روس سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں