site
stats
انٹرٹینمںٹ

اپنے گھر پر فلم کی شوٹنگ کے لیے ٹرمپ نے کیا شرط عائد کی؟

Donald Trump

واشنگٹن: گو کہ ڈونلڈ ٹرمپ آج کل امریکا کے صدر ہیں لیکن اس سے پہلے بھی وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ ٹرمپ کا شمار امریکا کے نہایت دولت مند اور بااثر کاروباری افراد میں ہوا کرتا تھا۔

سنہ 1990 کی دہائی میں ہالی ووڈ میں بننے والی فلموں میں اگر کوئی عالیشان اور شاندار عمارت دکھانی مقصود ہوتی تھی تو اکثر ہدایت کار ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا کرتے تھے کہ کیا وہ ٹرمپ ٹاور یا اپنی کسی اور عمارت میں انہیں شوٹنگ کی اجازت دیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ارب پتی صدر ٹرمپ کا گھر دیکھیں

اور ٹرمپ انہیں ایک شرط پر اس کی اجازت دیا کرتے تھے جو یہ تھی کہ فلم کے کسی منظر میں چند سیکنڈز کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی جلوہ گر ہوں گے۔ فلمی تکنیکی زبان میں اس منظر کو کیمیو کہا جاتا ہے۔

اس بات کا انکشاف ہالی ووڈ اداکار میٹ ڈیمن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 1992 میں ریلیز کی گئی ایک فلم سینٹ آف دا ویمن کے کچھ مناظر ٹرمپ کی ملکیتی عمارت میں عکس بند کرنے کی اجازت لی گئی اور ٹرمپ نے فلم کے ہدایتکار مارٹن برسٹ سے کہا کہ وہ ٹرمپ کے لیے بھی کوئی سین لکھیں جس سے وہ فلم میں آسکیں۔

سینٹ آف دا ویمن ایک نابینا ریٹائرڈ آرمی افسر اور اس کی نوجوان نگہبان کے تعلق پر مبنی فلم ہے۔

میٹ ڈیمن کے مطابق ٹرمپ کی مصروفیت کے پیش نظر اس منظر کی عکس بندی کے لیے پورا ایک گھنٹہ ضائع ہوا۔

اس منظر میں ٹرمپ کو اس طرح پیش کیا جانا تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہوتے، فلم کے مرکزی کردار ال پچینو ان سے کہتے، ’ہیلو مسٹر ٹرمپ‘، اس کے بعد ٹرمپ کو وہاں سے چلے جانا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس منظر کو ٹرمپ جیسے بدطنیت اور بااثر تاجر کی خفگی کے خوف کے باوجود کاٹ دیا گیا اور یوں یہ منظر سینٹ آف دا ویمن میں نہیں دکھایا گیا۔

البتہ ہوم الون 2 میں ایسا نہیں ہوا۔

سنہ 1992 میں ہی ریلیز ہونے والی فلم ہوم الون 2 میں فلم کا مرکزی کردار جو ایک بچہ ہے ایک شاندار عمارت میں جا پہنچتا ہے جو درحقیقت ٹرمپ کا گھر ہے۔ وہاں ایک منظر میں بچہ ٹرمپ سے راستہ پوچھتا دکھائی دیتا ہے۔

میٹ ڈیمن کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یہ منظر فلم میں کیوں رکھا گیا، ’شاید فلم کے منتظمین دولت مند ٹرمپ کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے تھے‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top