The news is by your side.

Advertisement

اردو کے ممتاز شاعر ڈاکٹر راحت اندوری انتقال کر گئے

نئی دہلی : اردو کے معروف شاعر راحت اندوری اس دنیا کو الودع کہہ گئے، انہوں نے آج صبح ہی کورونا پازیٹو ہونے کی اطلاع خود اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعہ دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق عصر حاضر کے مشہور شاعر ڈاکٹر راحت اندوری زندگی کی 70 بہاریں دیکھنے کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے، وہ گزشتہ روز کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے۔

انہوں نے ٹوئٹر پیغام لکھا تھا کہ کوویڈ کی ابتدائی علامتیں نظر آنے کے بعد کل میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ آربندو اسپتال میں ایڈمنٹ ہوں، دعا کیجیے جلد سے جلد اس بیماری کو شکست دے دوں۔

لیکن زندگی نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ 70 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے،

یکم جنوری 1950 کو بھارت میں پیدا ہونے والے راحت اندوری پیشے کے اعتبار سے اردو ادب کے پروفیسر رہ چکے بعد ازاں آپ نے کئی بھارتی ٹی وی شوز میں بھی حصہ لیا۔

ڈاکٹر راحت اندوری نے نہ صرف بالی ووڈ فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی بلکہ گلوکاری کے کئی شوز میں بہ طور جج حصہ بھی لیا۔

عام طور پر راحت اندوری کو نئی پوت بطور شاعر ہی پہچانتی ہے، انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائیں جو اُن کے فنی سفر ، تلفظ اور گلوکاری میں معاون ثابت ہوئی۔

آپ کے والد رفعت اللہ قریشی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ملازم تھے، راحت اندوری بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں، آپ نے ابتدائی تعلیم نوتن (مقامی) اسکول سے حاصل کی بعد ازاں اسلامیہ کریمیہ کالج اندور سے 1973 میں گریجویشن مکمل کیا۔

سن 1975 میں آپ نے بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا، تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لیے آپ نے 1985 میں بھوج اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

آپ کی تصانیف میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، رت بدل گئی، ناراض، موجود و غیرہ شامل ہیں۔ آپ نے اپنے منفرد انداز بیان، مختصر اور آسان الفاظ میں شعر کہہ کر اردو ادب اور سامعین کے دل جیتے۔

مزید پڑھیں : مشہور شاعر راحت اندوری بھی کورونا وائرس کا شکار

راحت اندوری کے چند منتخب اشعار

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر

راستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کر

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

میرے ہجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو
آسمان لائے ہو ، لے آؤ، زمین پر رکھ دو

اب کہا ڈھونڈنے جاؤ گے ہمارے قاتل
اب تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو

Comments

یہ بھی پڑھیں