بطخ نے چیتے سے کیسے جان بچائی؟ -
The news is by your side.

Advertisement

بطخ نے چیتے سے کیسے جان بچائی؟

اگر آپ دریا میں تیراکی کر رہے ہوں اور وہاں چیتا آجائے تو آپ کیا کریں گے؟

اگر وہ چیتا دریا سے پانی پی کر چلا گیا، جو کہ ایک ناممکن بات ہے، تب تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر آپ کو دیکھ کر اسے شکار کرنے کا خیال آجائے اور وہ آپ کے پیچھے دریا میں کود پڑے، جو 100 فیصد ممکن ہے، تب صورتحال بہت ہی خوفناک ہوجائے گی۔

لیکن ایک بطخ ایسی صورتحال میں کیا کرتی ہے؟

duck-7

شاید آپ سوچیں کہ ایک معمولی سی بطخ چیتے کے لیے بہت آسان ہدف ہے۔ اپنی تیز رفتاری کے باعث مشہور چیتا ایک چھلانگ لگا کر بطخ کو پکڑ سکتا ہے۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

بطخ کے پاؤں میں انگلیوں کے درمیان موجود جھلی اسے تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے پاؤں میں کوئی شریان یا رگ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اس کے پاؤں کسی بھی چیز کو محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یوں بطخ برفیلے یا تیز گرم پانی میں بھی باآسانی تیر سکتی ہے۔

duck-2

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بطخ کے پر واٹر پروف ہوتے ہیں۔ اس کی دم میں ایک ’پرین‘ نامی غدود پایا جاتا ہے جو دوران تیراکی اس کے جسم میں چکنائی کا اخراج کرتا ہے۔ یہ چکنائی بطخ کے پروں کو بھیگنے سے محفوط رکھتی ہے اور وہ سارا دن تیر کر بھی خشک رہتے ہیں۔

duck-3

بطخ پانی میں بھی کافی دیر رہ سکتی ہے اور یہ ہی وہ سبب ہے جس نے اسے اپنے پیچھے پڑے دو چیتوں سے بچایا۔ (ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے جائیں)۔

چیتوں نے جب بطخ کو شکار کرنے کا سوچ کر پانی میں چھلانگ لگائی تو بطخیں چیتوں کو چکمہ دے کر پانی کے اندر اس طرح غائب ہوگئیں کہ حیران پریشان چیتا انہیں ڈھونڈتا رہ گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں