The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں الیکشن: ہنگامہ آرائی کا خطرہ، کاروبار بند

واشنگٹن: امریکا میں 59 ویں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے، کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے نیویارک کے معروف کاروباری مراکز ففتھ ایونیو کی دکانوں اور ریسٹورنٹس کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق حالیہ امریکی الیکشن نے ملک میں تناؤ کی صورت حال پیدا کردی ہے، امریکا کے معروف کاروباری مراکز ففتھ ایونیو کے تاجر بھی اس صورت سے کافی پریشان ہیں اور انہوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے اپنی دوکانوں اور ریسٹورنٹس کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا ہے۔

اس موقع پر ایک دوکاندار کا کہنا تھا کہ لوگ بتا رہے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ہار گئے تو کچھ برا ہو سکتا ہے، تو یہ بورڈنگ اس لیے لگا رہے ہیں کہ کوئی توڑ پھوڑ نہ کر سکے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صدارتی انتخاب میں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہار گئے تو شہر میں توڑ پھوڑ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پولنگ ختم ہونےکے فوری بعد وہ انتخابی نتائج چیلنج کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کےبعد ووٹوں کی گنتی کو خوفناک چیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد نتائج کیلئے طویل مناسب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں صدارتی انتخابات : ووٹنگ کا عمل جاری

امریکہ میں 59 ویں صدارتی انتخابات کا عمل جاری ہے اس حوالے سے عوام میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے، کورونا وبا کے باعث الیکشن سے قبل ڈاک اور ارلی ووٹنگ کا آپشن بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

صدارت کیلئے ٹرمپ اور جوبائیڈن مد مقابل ہیں، جن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ریپبلکن امیدوار ٹرمپ دوسری بار صدارت کیلئے میدان میں آنے والے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن 8 سال امریکی نائب صدر رہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پہلے ہی فلوریڈا میں ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں، جوبائیڈن نے ڈیلاوئیر میں ووٹ ڈالا تھا، اس کے علاوہ نائب صدارت کیلئے مائیک پینس اور کاملا ہیرس مد مقابل ہیں، ڈیموکریٹ پارٹی کا انتخابی نشان گدھا ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی ہے۔

 

امریکا کا صدارتی الیکشن قدرے پیچیدہ مرحلہ ہے، ہار جیت کا دارو مدار عام شہریوں کے ووٹوں سے زیادہ ہر ریاست سے منتخب ہونے والے “الیکٹرز” پر ہوتا ہے، جو بعد میں صدر کا انتخاب کرتے ہیں، ہر ریاست سے ان “الیکٹرز” کی تعداد وہاں سے منتخب ہونے والے اراکین کانگریس کے برابر ہوتی ہے۔

538ارکان پر مشتمل اس گروپ کو “الیکٹرل کالج” کہا جاتا ہے، اس گروپ کی اکثریت یعنی 280 ممبر جس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں وہ ملک کا صدر قرار پاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں