The news is by your side.

Advertisement

دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں، اردوآن

انقرہ : ترک صدر نے امریکا اور روس کو واضح کردیا ہے کہ مشرقی شام میں آپریشن ہوگا، ہمارے پاس اب دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ روس اور امریکا پر واضح کردیا ہے کہ ترک فوج شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں کرد عسکریت پسند گروپ پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف فوجی آپریشن کا ارادہ کا رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی امریکا اور روس کے ساتھ مل کر شمال مشرقی شام میں سیف زون کے قیام کے لیے ایک سمجھوتہ کرنا چاہتا تھا مگر فی الحال ترکی کو اس میں ناکامی کاسامنا ہے اور اسے سخت مایوسی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ہمارے پاس اب دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ ہم نے اس حوالے سے امریکا اور روس کو بھی بتا دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام سےاپنی فوج نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت نیٹو کے دونوں رکن ملکوں نے ترکی کی شمال مشرقی سرحد سے متصل شامی علاقوں میں سیف زون کےقیام کی کوششوں پر اتفاق کیاگیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شام میں کرد پروٹیکشن یونٹس کو امریکا کی حمایت حاصل ہے جب کہ ترکی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

ترک حکومت کا کہنا تھا کہ مشرقی شام میں سیف زون کےقیام کے حوالے سے کوششیں جمود کا شکار ہیں۔

انقرہ نے واشنگٹن پرزور دیا ہے کہ وہ کردوں کے ساتھ رابطے ختم کرے،ترکی اگرشام میں فوجی کشی کرتا ہے تو یہ تین سال کے دوران کردوں کے خلاف تیسر آپریشن ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں