The news is by your side.

Advertisement

”ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے”

اسرائیلی درندوں کی مشین گنوں سے نکلتی گولیوں سے خون میں نہاتی، گولہ بارود کے سبب ملبے کا ڈھیر بنتی ارضِ فلسطین کئی عشروں سے اقوامِ عالم کی بے حسی کا ماتم کررہی ہے۔ مظلوم فلسطینی امنِ عالم کے داعی اور انسانیت کا درس دینے والے ممالک کی خاموشی اور بے بسی پر تعجب کرتے ہیں۔

آج ایک بار پھر فلسطین میں‌ ہر طرف آگ اور خون دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں‌ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں بچّوں سمیت کئی مظلوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور صورتِ حال بگڑتی جارہی ہے۔

پاکستان کے نام ور شاعر فیض احمد فیضؔ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف 1983ء میں ایک نظم ”ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے” لکھی تھی۔ ان کی اس نظم میں شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اور فتح کی نوید سنائی گئی ہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے۔

”ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے”

ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے

کیا خوف زیلغارِ اعدا
ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف زیورشِ جیشِ قضا
صف بستہ ہیں ارواحُ الشہدا
ڈر کاہے کا

ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے

قد جاءَ الحقُّ و زھَق الباطل

فرمودۂ ربِّ اکبر
ہے جنت اپنے پاؤں تلے
اور سایۂ رحمت سر پر ہے
پھر کیا ڈر ہے

ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
بالآخر اک دن جیتیں گے

Comments

یہ بھی پڑھیں