The news is by your side.

Advertisement

اتفاق رائے سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات مضحکہ خیز ہے، مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اتفاق رائے سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات مضحکہ خیز ہے، یہ لوگ کل کہیں گے اتفاق رائے سے جمہوریت لپیٹ دینی چاہئے۔

 ان خیالات کا اظہارانہوں نے  پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کنونشن میں صوبے پر اتفاق کرنے والے اب پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں؟ فاٹا کے مسئلے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے یا انضمام کے لیے جرگہ ہورہا ہے، جرگے کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو قبول کیا جائے، حکومت فاٹا کو مین اسٹریم میں لانے کی بات کی اب پیچھے ہٹ گئی، حکومت نے رواج ایکٹ کی بات کی اس سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے قبائل ایسے نہیں جیسے ان کو دکھایا جاتا ہے، فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام عوام کی رائے نہیں، فاٹا کی عوام نے بھی جرگے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ حکومت بھی فاٹا سے متعلق فراخدلی کا مظاہرہ کرے، فاٹا معاملے پر اب تک کئے گئے تمام اقدامات مسترد کرتے ہیں۔

یہ پڑھیں: فضل الرحمان اوراچکزئی فاٹا انضمام میں بڑی رکاوٹ ہیں، عمران خان

 واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی فاٹا کے انضمام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ان دونوں نے عوام پر ظلم کیا ہے۔

اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں