The news is by your side.

Advertisement

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کو دوبارہ طلب کرلیا

اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے شوگر اسکینڈل کیس میں جہانگیر ترین کو دوبارہ طلب کرلیا۔

اے آر وائی نیوز کو ایف آئی اے ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین کو یکم اکتوبر جبکہ اُن کے صاحبزادے علی ترین کو تیس ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے 100 سے زائد سوالات تیار کیے ہیں جن کے جوابات ترین فیملی کو دینے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے نے علی ترین کو 18 اور جہانگیر ترین کو 19 ستمبر کو طلب کیا تھا مگر لندن میں موجودگی کی وجہ سے دونوں‌ ہی پیش نہیں ہوسکے تھے۔

علی خان ترین کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوسکتا،میں اس وقت لندن میں ہوں اور والد کی دیکھ بھال کر رہا ہوں کیونکہ میرے والد جہانگیر ترین کا لندن میں علاج جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایف آئی اے کے سوالات کے جواب کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

مزید پڑھیں:علی ترین ایف آئی اے کے سامنے پیش نہ ہوئے

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں پیدا ہونے والے چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور مونس الہیٰ نے حاصل کیا تھا۔

چینی بحران رپورٹ سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کی وزارت بھی تبدیل کر دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 26 اگست کو جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈبلیو ڈی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کاآغاز کیا اور ملک بھر سے جے ڈبلیو ڈی کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈبلیو ڈی کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کاآغاز

یف آئی اے کی سی آئی ٹی کی جانب سے ڈپٹی ملتان،لاہور، کراچی، اسلام آباد اور رحیم یار خان کےڈپٹی کمشنرز کو خط ارسال کیا گیا جس میں جہانگیرترین کے خاندان سمیت22افراد اور کمپنیوں کاڈیٹا مانگا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں