"اپنی سیلفی جیسا جاذب نظر بننا چاہتا ہوں!" یورپی نوجوانوں کے مطالبے پر پلاسٹک سرجن پریشان -
The news is by your side.

Advertisement

“اپنی سیلفی جیسا جاذب نظر بننا چاہتا ہوں!” یورپی نوجوانوں کے مطالبے پر پلاسٹک سرجن پریشان

لندن: یورپ میں پلاسٹک سرجری کا ایک عجیب و غریب رجحان سامنے آ گیا ہے، لوگ اپنی فلٹر شدہ سیلفی جیسا جاذبِ نظر دکھائی دینے کے لیے پلاسٹک سرجری کلینکس کا رُخ کرنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یورپی نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پروان چڑھنے لگا ہے، نوجوان اپنی فلٹر والی سیلفیز جیسا دکھائی دینے کے لیے پلاسٹک سرجری کروا رہے ہیں۔

پلاسٹک سرجری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ جاذبِ نظر دکھائی دینے کے لیے مشہور افراد کی تصاویر لایا کرتے تھے لیکن اب جدید موبائل ایپس نے اس رجحان کو تبدیل کر دیا ہے۔

پلاسٹک سرجنز کے مطابق لوگ اب اپنی ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل شدہ تصاویر کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اپنی صورت بھی اگر فلٹر سے گزرے تو کسی سیلی بریٹی سے کم دکھائی نہیں دیتی۔

خیال رہے کہ موبائل ایپس میں موجود فلٹرز کی مدد سے آپ کی جلد ملائم ہوسکتی ہے، آنکھیں بڑی ہوسکتی ہیں، اور ناک بھی ستواں ہو جاتی ہے۔

پلاسٹک سرجنز کے مطابق اب ان کے 55 فی صد مریض اپنی سیلفیز جیسا دکھائی دینا چاہتے ہیں، لوگ تو یہ چاہتے ہیں لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟


لندن: ہتھوڑے سے خواتین پر قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص قتلِ عمد کا ملزم نامزد


بوسٹن میڈیکل سینٹر کے محققین نے کہا ہے کہ یہ معیار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، مقبول ایپس میں دیے گئے فیچرز حقیقت اور تخیل کا فرق مٹا رہے ہیں، لوگوں کو یہ حقیقت مد نظر رکھنی ہوگی۔

ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ فلٹرز والی ایپس سے ایسے لوگوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جو اپنی شکل و صورت کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہنے کی بیماری کا شکار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں