The news is by your side.

Advertisement

نئی تحقیق میں 3 اہم چیزیں بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ثابت

لندن: برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ چائے، بیریاں اور سیب بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آبادی کا بہت بڑا حصہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کا شکار ہے، اس کے تدارک کے لیے چائے، مختلف بیریاں اور فلے وینولز (Flavonols) نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں بلڈ پریشر قابو میں رکھنے کے لیے غذاؤں کا سہارا لیا جاتا ہے، جسے اب باقاعدہ ایک علم کا درجہ حاصل ہو چکا ہے، اور اسے ڈائیٹری اپروچ ٹو اسٹاپ ہائپرٹینشن یا ڈیش کہا جاتا ہے، لیکن اب ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیش کی لمبی چوڑی غذاؤں کو کھانے کی بجائے اگر سیب اور چائے کا استعمال بڑھایا جائے تو اس سے بھی بلڈ پریشر میں افاقہ ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں کی جانے والی یہ تحقیقی سروے ایک آن لائن جریدے سائنٹفک رپورٹس کی تازہ اشاعت میں چھپا ہے، اس ریسرچ مطالعے کے دوران 25 ہزار سے زائد افراد کا مطالعہ کیا گیا۔

اس سروے میں لوگوں کی عمر، عادات، ورزش، اور غذائی ترجیحات کو نوٹ کیا گیا، ان سے چائے اور سیب کے استعمال کا پوچھا گیا، اور اس دوران پیشاب کے ٹیسٹ میں فلے وینولز کا اخراج بھی نوٹ کیا گیا، پھر اس مقدار کا بلڈ پریشر سے تعلق بھی نوٹ کیا گیا۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سائنس دانوں نے ایک اہم بات نوٹ کی کہ جن افراد میں فلیوونولز کی مقدار زیادہ تھی ان کا بلڈ پریشر دیگر کے مقابلے میں قدرے کم تھا، یعنی یہ کمی دو سے چار یونٹ تک تھی، اس سے ماہرین ایک اہم نکتے تک پہنچے، اور پھر جیسے ہی ہائی بلڈ پریشر والے مریضوں میں فلے وینولز کی مقدار بڑھائی گئی تو ان کا بلڈپریشر بھی دھیرے دھیرے نارمل ہوتا گیا۔

ماہرین کے مطابق فلیوونولز کی بلند مقدار چائے، سیب اور بیریوں میں پائی جاتی ہے، جب کہ کافی میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے، بعض اقسام کے چاکلیٹس میں بھی فلیوونولز پائے جاتے ہیں، اور یہ دل کے لیے بھی مفید ہیں، اس کے بارے میں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلے وینولز جادوئی اثرات رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں