The news is by your side.

Advertisement

صحرا کی بلبل کو خاموش ہوئے چار برس بیت گئے

 خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی معروف لوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑےچار برس بیت گئے ‘ ان کے مداح آج بھی ان کے بکھیرے سروں پر سر دھن رہے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق تقسیم ہند کے بعد 1947 میں پیدا ہونے والی اور خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ ریشماں نے 12 برس کی کمر عمر میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔

بعد ازاں انہیں فوک سنگر کے طور پر باقاعدہ پہچان ملی، ریشماں نے اپنے کیرئیر ویسے تو بہت سے گانے گائے تاہم اُن کے مشہور ہونے والے گانوں میں ’’چار دنا دا پیار او ربا، اکھیوں کے آس پاس، بانئیں اور لگ دا دل میرا‘‘ شامل ہیں۔

غریب اور خانہ بدوش گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے گلوکارہ باقاعدہ تعلیم خاصل نہ کرسکیں تاہم وہ بہت کم عمری سے ہی صوفیاء کرام کے مزاروں پر منقبت پڑھتی تھیں۔ ریشماں کو پذیرائی اُس وقت ملی جب انہوں نے معروف صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر ’’ہو لعل میری‘‘ قوالی پیش کی۔ علاوہ ازیں ان کے کئی گانے بھارتی فلموں میں بھی آئے۔

ریڈیو پر کامیابیاں سمیٹنے کے بعد گلوکارہ کو ٹی وی میں آنے کا موقع ملا یہاں بھی انہوں نے انتھک محنت اور لگن سے پرفارم کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔ اُن کی پذیرائی اور کلاموں کو دیکھتے ہوئے بھارت کے سابق وزیر اعظم نے ریشماں کو بھارت آنے کی خصوصی دعوت دی تھی۔

ریشماں کو 1980 میں طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم رپوٹس آنے پر انہیں گلے کے کینسر کا انکشاف سامنے آیا۔ غربت کے باعث گلوکارہ اپنا مناسب علاج نہ کرواسکیں تاہم سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں انہیں بھرپور امداد فراہم کی۔

طویل علالت کے بعد گلوکارہ 3 نومبر 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئی، اُن کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز اور ’’بلبلِ صحرا‘‘ کا خطاب عطاء کیا۔


‘ریشماں کے یادگارگانے’



اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں