The news is by your side.

Advertisement

فرانس میں برقینی پر عائد پابندی ختم

پیرس :فرانس کی عدالت نے30قصبوں کے میئروں کی جانب سے ساحل سمندر پر اسلامی برقینی سوئمنگ سوٹ پہننے پر عائد پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے.

تفصیلات کےمطابق فرانسیسی عدالت کا کہنا ہےکہ یہ ’پابندی واضح طور پر بنیادی حقوق کی آزادی کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عقائد اور افراد کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔‘

خیال رہےکہ اس سے قبل تقریباً 30 شہروں کے میئروں نے ساحل پر برقینی پہننے پر پابندی عائد کردی تھی جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا تھا.

اسلامی برقینی سوئمنگ سوٹ پہننے پرمسلمانوں کا کہنا تھا کہ انہیں غیر منصفانہ انداز میں ہدف بنایا جا رہا ہے.

فرانس کے 26 قصبوں کے میئروں نے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور سیکولرزم کے بنیادی اصول کے تحت ساحل پر برقینی پہننے پر پابندی لگائی تھی.

*فرانسیسی پولیس نے ساحل سمندر پر خاتون کے کپڑے اتروا لیے

یاد رہے کہ برقینی پر پابندی کے خاتمے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیس کی عدالت سے رجوع کیا لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی جس کے بعد انہوں نے یہ درخواست فرانس کی سب سے بڑی عدالت کونسل آف اسٹیٹ میں جمع کروائی تھی.

برقینی پر پابندی کے اس فیصلے سے فرانس کی حکومت میں شامل سینیئر ارکان کی رائے بھی تقسیم ہو گئی تھی.

واضح رہے کہ فرانس میں یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب نیس کے ساحل پر پولیس برقینی پر عائد پابندی کو یقینی بناتے ہوئے ایک خاتون سے برقینی اتروا رہی تھی.سوشل میڈیا پر اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد کئی افراد نے بہت غصے کا اظہار کیاتھا.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں