site
stats
اہم ترین

کرفیو کے باوجود 13اور 14 اگست کو فریڈم مارچ، 250 کشمیری زخمی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز مساجد پر تالے اور نماز جمعہ کی ادائیگی روکے جانے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی،حریت پسند کشمیری آج اور کل “فریڈم مارچ” کیا جا رہا ہے جب کہ تازہ جھڑپوں میں بھارتی فورسز نے مزید 250 کشمیریوں کو زخمی کر دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالے حق خود ارادیت کے لیے آج ریفرنڈم مارچ کر رہے ہیں،حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے تمام کشمیریوں کو سری نگر کے لا ل چوک پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے 13 اور 14 اگست کو ریفرنڈم مارچ کا اعلان کیا تھا جب کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند رہنماؤں کی جانب سے ہڑتال کی مدت 18 اگست تک بڑھا دی گئی ہے۔

واضح رہے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی جنونیت عروج پر ہے اور کشمیریوں سے مذہبی آزادی بھی چھینی جانے لگی ہیں جس کا مظاہرہ گزشتہ روز نماز جمعہ کی ادائیگی روکنے کے لیے مساجد پر تالے لگا کے کیا گیا جب کہ نماز جمعہ کے دوران بھی کرفیو میں کمی نہیں کی گئی جس کے بعد کشمیری شہری سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔

یاد رہے حریت پسند نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد سے آج 36 ویں روز بھی وادی کشمیرمیں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ موبائل سروس بھی بند ہے اس کے باوجود کئی مقامات پربھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے اور ہڑتال جاری ہیں، بھارتی فوج کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج سے مزید 250 کشمیری زخمی ہو گئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top