The news is by your side.

جرمنی میں‌ دوہری شہریت والوں کی شہریت منسوخ‌ کرنے کا قانون منظور

نئے قانون کا مقصد جان شہریوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو داعش سے وابستگی کے خواہاں ہیں

برلن : جرمن حکومت نے شہریوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کےلیے دوہری شہریت پر پابندی کا قانون منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں واقع دارالعوام نے گزشتہ روز مذکورہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت بیرون ممالک دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کی جرمن شہریت کو منسوخ کردیا جائے گا بشرطیکہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہوں۔

حکومتی ترجمان اسٹیفان زائبرٹ نے کہا کہ اس کا مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جو داعش سے وابستگی کے خواہاں ہیں، اس قانون کا اطلاق نا بالغوں پر نہیں ہو گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اور برطانیہ میں پہلے ہی سے ایسے قوانین موجود ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ درجنوں جرمن شہری جنہوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی تاحال امریکی حمایت یافتہ شامی کرد ملیشیا کی گرفت میں ہیں اور عراقی حکومت انہیں اپنی شہریت سے محروم نہیں کرے گی۔

جرمنی کی وزارت داخلہ کے مطابق سنہ 2013 میں عراق و شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز کرنے والی تنظیم میں تقریباً ایک ہزار جرمن شہریوں نے شمولیت اختیار کی تھی۔

جرمن وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان میں ایک چوتھائی افراد واپس جرمنی لوٹ چکے ہیں جن میں کچھ مقدمات کا سامنا کررہے ہیں اور کچھ بحالی مرکز میں مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ جرمنی سمیت بیشتر یورپی ممالک میں دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، جس کی روک تھام کے لیے یورپین حکومتیں نت نئے قوانین متعارف کروا رہی ہیں تو کہیں اسلام کو تشدد زدہ مذہب گردان کر مسلمانوں کے حجاب پر پابندی عائد کررہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں