The news is by your side.

Advertisement

غیرقانونی طور پر جرمنی میں داخلے کی کوشش، 2018 میں 38 ہزار مہاجرین کی گرفتاریاں

برلن: وفاقی پولیس نے 2018 میں غیرقانونی طور پر جرمنی کے حدود میں داخلے کی کوشش کرنے پر 38 ہزار مہاجرین کو گرفتار کیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال جنوری سے نومبر کے درمیان جرمن وفاقی پولیس نے غیرقانی طور پر جرمنی کے حدود میں داخل ہونے والے اڑتیس ہزار تارکین وطن کو گرفتار کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 28 ہزار تارکین وطن نے زمینی راستوں کے ذریعے جرمنی میں داخلے کی کوشش کی، جبکہ 10 ہزار تین سو مہاجرین کا تعلق آسٹریا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دستاویزات نہ ہونے پر مہاجرین کو گرفتار کرکے واپس بھیج دیا گیا، ان ہزاروں تارکین وطن کی بہت بڑی اکثریت نے جرمنی کی آسٹریا کے ساتھ سرحد پار کر کے اس ملک میں داخلے کی کوشش کی۔

یورپ میں تارکین وطن کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں: اقوامِ متحدہ کی ہدایت

ان تارکین وطن میں درجنوں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے لیکن ایک بہت بڑی تعداد کا تعلق افغانستان، نائجیریا، عراق، شام اور ترکی سے بھی تھا۔

خیال رہے کہ بہتر روزگار اور خوشحال زندگی گزارنے کا خواب لیے ہزاروں مہاجرین غیرقانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کبھی ان کا یہ خواب موت نگل لیتی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پورپ میں مکمل آبادی کا دس فیصد حصہ مہاجرین کا ہے، بہتر روزگار اور خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش لیے اب تک ہزاروں مہاجرین غیرقانونی طور پر یورپ کے دیگر ممالک میں داخلے کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں