site
stats
اے آر وائی خصوصی

سلسلہ نظامیہ کے 16 ویں‌ بزرگ حافظ علیم الدین نظامی

hafiz aleem uddin nizami

حضرت حافظ خواجہ سید شاہ محمد علیم الدین امام نظامی رحمة اللہ علیہ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے صاحب تصنیف بزرگ اور بقول مولانا عبد الماجد آبادی ”معلومات سے لبریز“ تھے۔

آپؒ نجیب الطرفین (والد اور والدہ کی طرف سے) حسینی سید اور حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمة اللہ علیہ کی درگاہ شریف کی مسجد کے امام تھے۔

آپ ؒ کا سن ولادت 1266 ہجری ہے اور تاریخ وصال 8 محرم الحرام 1357 ہجری ہے۔ 8 محرم الحرام کو بیت الامام اعظم آستانہ محبوب پاک پر آپ کے سالانہ عرس شریف کا اہتمام ہوتا ہے۔

آپؒ حافظ قرآن تھے، اپنے زمانے کے ممتاز صوفی،عالم، عابد اور فقیہ تھے، کئی کتب آپ کو ازبر تھیں، حافظے کا یہ عالم تھا کہ جو کتاب ایک بار پڑھ لیتے وہ یاد ہوجاتی۔

آپ کتب بینی سے گہرا شغف رکھتے تھے، نایاب کتب کا کثیر ذخیرہ آپ کے پاس موجود تھا جس میں سے اکثر کتابوں کے قلمی نسخے آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔

حافظ علیم الدین نظامی ہم عصر علماء میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، درگاہ محبوب الٰہیؒ پر زیارت کے لیے آنے والے علماء کرام کے ساتھ آپ کی علمی و روحانی مجالس سجی رہتی تھیں۔

آپؒ کی معروف تصانیف میں رسالہ”تذکرة الانساب نظامی“ ،”شواہد نظامی“ اور ”معمولات چشت“ شامل ہیں، معمولات چشت کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ اور دیگر سلاسل میں بطور نصاب بھی شامل کیا گیا ہے جس میں محرم الحرام میں بزرگان دین کی جانب سے ادا کیے گئے اورادو وظائف اور نوافل کا مفصل بیان کیا گیا ہے۔

معمولات چشت میں بالخصوص 10 محرم الحرم کی اہمیت، اس دن کے مسنون اور نوافل عمل، وظائف اور 72 شہدائے کربلا کے نام بھی درج کیے گئے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں : بہشتی دروازہ آخر ہے کیا؟ یہ نام کیوں‌ دیا گیا؟


 

سلسلہ نظامیہ کے 16ویں بزرگ حافظ علیم الدین نظامیؒ کی یہ تصنیف فارسی میں ہے جس کا ترجمہ کیا گیا، آپ نے یہ کتاب 1334 میں تحریر کی تھی۔

(حافظ فیضان نظامی، کیو ٹی وی)

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top