The news is by your side.

Advertisement

لداخ میں جھڑپ کیسے ہوئی؟ چینی وزارت خارجہ نے تفصیل جاری کر دی

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے لداخ گلوان میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کی تفصیل جاری کر دی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وادی گلوان ایکچوئل لائن کنٹرول پر چین کے علاقے میں ہے، کئی برس سے چینی فورسز اس علاقے میں پٹرولنگ کر رہی ہیں، اپریل سے بھارتی فورسز نے گلوان میں یک طرفہ طور پر سڑکوں کی اور دیگر تعمیرات جاری رکھیں، جس پر چین نے متعدد بار بھارت کو آگاہ کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) کے مزید اندر آیا اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا، 6 مئی کو بھارتی بارڈر فورسز نے ایل اے سی عبور کی اور چینی علاقے میں گھس آئے، بھارتی فورسز نے یک طرفہ طور پر اسٹیٹس کو، کنٹرول اور مینجمنٹ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

بھارت نے چینی فوج سے جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرلی

چینی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی فورسز کے اقدامات کے بعد چینی فورسز نے گراؤنڈ سیچویشن کے مطابق اقدامات کیے، چینی فورسز نے سرحدی علاقے میں کنٹرول اور مینجمنٹ کو مضبوط کیا، اب کشیدگی میں کمی کے لیے چین بھارت کے ساتھ سفارتی و فوجی چینلز کے ذریعے رابطے میں ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے ایل اے سی عبور کرنے والے فوجیوں کی واپسی پر اتفاق کیا، بھارتی فوجیوں نے ایل اے سی پر تعمیرات بھی گرا دی ہیں، بھارت نے وعدہ کیا کہ پٹرولنگ کے لیے دریائے گلوان عبور نہیں کرے گا، بھارت نے یہ بھی وعدہ کیا وہ تعمیرات بھی نہیں کرے گا، دونوں ممالک فورسز کی مرحلہ وار واپسی کا لائحہ عمل بھی طے کریں گے۔

لداخ :سرحدی خلاف وزری پر چینی فورسز کا کرارا جواب، بھارتی کرنل سمیت 2 فوجی ہلاک

چینی وزارت خارجہ کے مطابق 15 جون کو بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارت نے ایک بار پھر ایل اے سی عبور کی اور اشتعال انگیزی کی، ایسا اس وقت ہوا جب وادی گلوان میں صورت حال معمول پر آ رہی تھی، چینی افسر اور فوجی وہاں مذاکرات کے لیے گئے تھے، اس کے نتیجے میں جھڑپ ہوئی اور ہلاکتیں ہوئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں