site
stats
انٹرٹینمںٹ

میں اپنی سرپرست خود: سعودی خواتین کا صنفی تفریق کے خلاف سخت احتجاج

ریاض: سعودی عرب میں چند برقع پوش خواتین نے ایک میوزک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ سعودی معاشرے کے ان قوانین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جن کے تحت صرف خواتین پر پابندیاں عائد ہیں۔

ویڈیو کا آغاز چند برقع پوش خواتین سے ہوتا ہے جو ایک گاڑی کی پچھلی سیٹوں پر آ کر بیٹھتی ہیں، اس کے بعد ڈرائیونگ سیٹ پر ایک چھوٹا سا بچہ آ کر بیٹھتا ہے۔

song-5

سعودی عرب میں چونکہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سخت پابندی عائد ہے لہٰذا اس بات کو ایک مضحکہ خیز انداز میں لیا جاتا ہے کہ وہاں چھوٹے بچے بھی صرف اس لیے گاڑی چلا سکتے ہیں کیونکہ وہ مرد ہیں۔

اس کے بعد ان خواتین کی تفریحات کے مناظر شروع ہوتے ہیں جو عموماً سعودی معاشرے میں خواتین کے لیے ممنوع سمجھے جاتے ہیں۔

song-4

song-3

song-1

گانے میں وہ گاتی نظر آتی ہیں، ’کاش دنیا سے سارے مرد غائب ہوجائیں، یہ ہمیں نفسیاتی مسائل کے علاوہ اور کچھ نہیں دے سکتے‘۔

ویڈیو میں سعودی عرب کے ’سرپرستی نظام‘ کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے جس کے تحت خواتین اپنے گھر کے مردوں کے بغیر نہ تو سفر کر سکتی ہیں، نہ ہی ان کی اجازت کے بغیر شادی کر سکتی ہیں اور نہ انہیں ان کی اجازت کے بغیر کام کرنے کی اجازت ہے۔

بعض اوقات وہ سخت بیماری کی حالت میں بھی صرف اس لیے بھی طبی سہولیات حاصل کرنے سے محروم ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے کوئی مرد دستیاب نہیں ہوتا۔

گانا جاری ہوتے ہی ٹوئٹر پر ’سعودی خواتین کا سرپرستی کے نظام کے خاتمے کا مطالبہ‘ کا ہیش ٹیگ مقبول ہوگیا۔

خواتین نے ایک اور ہیش ٹیگ ’میں اپنی سرپرست خود ہوں‘ استعمال کرتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سعودی شہزادے ولید بن طلال نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈرائیونگ سے محروم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انہیں ان کے بنیادی حق سے محروم کردیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top