The news is by your side.

Advertisement

اقتصادی سروے نے ہمارے دور حکومت میں‌ ترقی کی تصدیق کردی ہے، عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ 2 سال میں ترقی کررہا تھا ملک بہتری کی طرف جارہا تھا اور ملک کی دولت بڑھ رہی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں کی گئی معاشی اصلاحات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ رواں مالی سال کے معاشی سروے کے اعدادوشمار سامنے آگئے ہیں،  جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان گزشتہ 2 سال میں ترقی کررہا تھا ملک بہتری کی طرف جارہا تھا اور ملک کی دولت بڑھ رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے، اس سے قبل اتنی ترقی 2004-05 میں مشرف کے دور میں ہوئی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ ہم ان کی جنگ لڑرہے تھے تو اس وقت بیرون ملک سے بہت پیسہ آرہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سروے کے مطابق ہمارے تیسرے سال میں ترقی کی شرح 5.74 تھی، جبکہ رواں سال اس میں مزید اضافہ ہوا اور 5.97 فیصد پر پہنچ گئی۔

عمران خان نے کہا کہ ملکی دولت میں اضافہ ہوا، ملک ترقی تب کرتا ہے جب اس کے پاس پیسہ خرچ کرنے کیلئے آتا ہے، ہم نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریونیو میں اضافہ کیا ہے، ہمارے دور میں 6 ہزار 100 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا، جبکہ ایکسپورٹ کو بھی  32 ارب ڈالر تک لے گئے، ہمارے آنے سے پہلے ایکسپورٹ میں کمی ہورہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز نے ہمارے دور میں سب سےزیادہ ترسیلات 31 ارب ڈالر بھیجیں، ترسیلات زر اس لیے بڑھیں کیونکہ اوورسیز پاکستانیوں کا ہم پراعتماد تھا، اوورسیز پاکستانیوں کو معلوم تھا کہ ہم پیسہ باہرگھروں کیلئےنہیں بھیجتے۔

انہوں نے زراعت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں زرعی پیداوار دگنی بڑھی ہے، زرعی پیداوار میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، ہمارے دور میں کسانوں کے پاس درست طریقے سے پیسہ گیا، اس سے قبل شوگر مافیا وقت پر کسانوں کو پیسہ نہیں دیتا پورا پیسہ نہیں پہنچتا تھا، ہم نے کسانوں کو وقت پر پیسہ پہنچایا اور ایک قانون بھی بنایا، کسانوں کے پاس ریکارڈ پیسہ گیا تو ریکارڈ زرعی پیداوار ہوئی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارے دور میں انڈسٹری 7.2 فیصد بڑھی، جبکہ لارج اسکیل گروتھ 10.6 فیصد ہوئی جو ایک ریکارڈ ہے، ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا، سروسز سیکٹر میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ کہتے ہیں ہم نےبہت قرضہ لیا، ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا، ڈیٹ ٹو جی ڈی پی ن لیگ 64 فیصد پر چھوڑ کرگئی تھی ہم نے اسی کو برقرار رکھا، انہوں نے جو قرضے لیے ہوئے تھے ہم اس پر سود بھی دیتےتھے، ہمارے دور میں خطے کی نسبت سب سے کم بے روزگاری تھی۔

عمران خان نے کہا کہ 30 سال دوخاندانوں نے اس ملک پر حکومت کی، ان دونوں خاندانوں نے 30 سال میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا، ہمارے دور میں10 ڈیم کے منصوبے بنائے گئے جن میں 3 بڑے منصوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ دور میں امپورٹڈ فیول اور امپورٹڈ کوئلے پر پاور پلانٹ لگائے گئے، اب عالمی سطح پر تیل اور کوئلے کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ کئی اہم اقتصادی اہداف حاصل کرلیے گئے

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بھی ساڑھے 3 سال تھی بجلی کہاں غائب ہوگئی، بجلی آج بھی موجود ہے کوئی لے کر نہیں گیا لیکن معاہدوں کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، پلانٹ کی کپیسٹی ہے لیکن پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ادائیگیاں نہیں ہورہی اس لیے وہ بجلی نہیں بنارہے، پاور پلانٹ آج 25 فیصد کپیسٹی سے چل رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ موڈیز نے جو پاکستان کی ریٹنگ منفی کی اس سے اور زیادہ نقصان ہوگا، خوف ہے ملک ڈیفالٹ نہ ہوجائے، ایسا ہوا تو معیشت اٹھانے میں وقت لگے گا، یہ لوگ ملک سنبھالنے کیلئے تیار ہی نہیں تھے تو حکومت گرانے کی کیا وجہ تھی، جلدی کیا تھی، تیاری کرلیتے، وجہ بھی اب سامنےآگئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں