The news is by your side.

Advertisement

بدصورتی جہیز کی مانگ کا اہم سبب ہے ‘ بھارتی نصاب کی منطق

 

مہاراشٹر: مغربی بھارتی ریاست مہاراشتر کی درسی کتاب میں جہیز کے حوالے سے شامل مضمون میں ’’بد صورتی کوجہیز کی مانگ میں اضافے کی وجہ‘‘ قرار دینے پرعوام میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے.

تفصیلات کے مطابق درسی کتاب کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر لڑکی بدصورت یا معذور ہوتی ہے تو اس کی شادی میں مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں، کیونکہ ایسی لڑکیوں سے شادی کے لئے لڑکے والے زیادہ جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں.

تدریسی نصاب میں درج اس مضمون نے زیادہ جہیز کا مطالبہ لڑکی کی بدصورتی یا اس کی معذوری سے مشروط کیا ہے ، جس پر مغربی بھارتی ریاست مہاراشتر کا پڑھا لکھا طبقہ سختی سے نکتہ چینی کر رہا ہے، متنازعہ مضمون کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر وبال مچا دیا ہے، اور لوگوں نے اس مضمون کے حوالے سے اپنی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا.

tweets-1

عوام کے شدید ردعمل کے بعد وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ ہم اس مضمون کو نصاب کے حصے سے خارج کر دیں گے.

واضح رہے کہ جنوبی ایشا کے ممالک میں شادی سے قبل لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو رخصتی سے قبل تحفے کے طور پرضروریاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والی اشیا دیتے ہیں ، یہ روایت صدیوں سے برصغیرمیں جاری ہے۔ 1961 سے یہ روایت بھارت میں غیر قانونی قرار دی جاچکی ہے تاہم آج بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے اورجہیز نہ ملنے پرسسرال والوں کی جانب سے لڑکیوں کو ظلم وستم کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وہ خواتین جن کے ماں باپ ان کو زیادہ جہیز نہیں دے سکتے ہیں ان کی سسرال والے ان کو زندگی بھر طعنے دیتے ہیں ، اکثر یہ خواتین سسرال کے ظلم وستم کے آگےزندگی کی بازی بھی ہار جاتی ہیں۔ جہیز کے لیے مطلوبہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لڑکیاں شادی نہ ہونے کے باعث ماں باپ کے گھر میں ہی جوانی سے بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہوجاتی ہیں.

tweets2

سن 2015 میں وزارت برائے ویمن اینڈ چلڈرن ڈوپلمنٹ نے انڈین پارلیمنٹ کو بتا یا تاھ کہ گذشتہ تین سالوں میں جہیز نہ ملنے یا کم ملنے کی بدولت فی سال 8 ہزار سے زائد خواتین نے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوئے ہیں.

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جہیز کے حوالے سے اس قسم کا مضمون نصاب کا حصہ پہلی بار نہیں بنا ہے، بلکہ اس سے قبل بھی اس قسم کی صورت حال رونما ہوچکی ہے.

واضح رہے کہ گذشتہ سال ایک اسکول ٹیچر نے اس حوالے سے شکایت درج کروائی تھی جب ایک درسی کتاب میں لکھا گیا تھا کہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ خواتین نے مختلف سیکٹرز میں کام کرنا شروع کردیا گیا ہے جبکہ 2006 میں راجستھان کی ایک نصاب کی کتاب میں گھریلو خواتین کو گدھے سے تشبیہہ دی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں