The news is by your side.

Advertisement

بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کا امن موقف تسلیم کرلیا

نئی دہلی: پاکستان کے خطے میں امن کی کوششوں کا بھارت بھی متعرف ہوگیا، بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کا امن موقف تسلیم کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کے امن موقف کی تائید کردی ہے، بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ ایل او سی پر سیز فائرپاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ بھارت ایل او سی پر سیز فائر برقرار رکھنا چاہتا ہے، امید ہے کہ پاکستان کی بھی یہی خواہش ہے ، بھارت آرمی چیف کا کہنا ہے کہ سیز فائر سے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو فائدہ ہوگا، کیونکہ ایل او سی پر پاک بھارت کشیدگی سے دونوں جانب رہنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ ایل او سی پر تین ماہ سے جاری جنگ بندی سے امن کی بحالی کا احساس ہوا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال پچیس فروری کو پاکستان اور بھارت نے ایل اوسی اور دیگر سیکٹرز پر سیز فائر کی خلاف ورزی نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ رابطے کے نتیجے میں 2003 کے سیزفائر کی انڈر اسٹیڈنگ پر من وعن عمل ہوگا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز میں ہاٹ لائن کے موجودہ میکنزم کے حوالے سے رابطہ ہوا، جس میں ایل اوسی اور دیگر سیکٹر ز کی صورتحال کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایم اوزکےدرمیان ہاٹ لائن رابطے کے موجودہ طریقہ کار پر مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں دیرپا اور باہمی مفاد امن کی خاطر دونوں اطراف کا کور ایشوز، تحفظات حل کرنے کیلئے اتفاق ہوا اور ایل اوسی ودیگرسیکٹرز پرفائر بندی کے حوالے سے معاہدوں پرعمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا۔

ترجمان کے مطابق مذاکرات میں 25،24 فروری کی درمیانی رات سے باہمی مفاہمت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا بھی اعادہ کیا گیا اور بارڈر فلیگ میٹنگز نظام کے ذریعے کسی بھی غیر متوقع صورتحال حل کرنے پر اتفاق ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی و کاروباری سرگرمیاں بحال ، ایل او سی پر سیز فائر کے ثمرات عوام تک پہنچنے لگے

اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کےدرمیان یہ رابطہ 1987 سے جاری ہے، رابطے کے نتیجے میں دوہزار تین کے سیزفائر کی انڈر اسٹیڈنگ پر من وعن عمل ہوگا۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ ایل اوسی پر سیزفائر کیلئے 2003 میں ایک اور انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی تاہم 2014سے ایل اوسی سیزفائرخلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی ، پھر 2003کےبعد سےاب تک 13500سےزائد سیزفائرخلاف ورزیاں ہوئیں، اس دوران 310شہری جاں بحق اور 1600کےقریب زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2014سے2021 کے درمیان 97فیصد سیزفائرخلاف ورزیاں ہوئیں، 2019میں سب سے زیادہ سیزفائر خلاف ورزیاں ہوئیں اور سیزفائرخلاف ورزیوں سے2018میں سب سےزیادہ جانی نقصان ہواتھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں