site
stats
صحت

زخموں کی مسیحائی کرنے والی نرسوں کا عالمی دن

جذبہ انسانیت سے سرشار زخموں اور زخمیوں کی مسیحائی کرنے والی نرسوں کا آج عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔

نرسنگ کے مقدس پیشے کی بنیاد ایک اطالوی خاتون فلورنس نائیٹ اینجل نے سنہ 1860 میں رکھی۔ فلورنس نے اپنے والدین کی مخالفت اور اس وقت معاشرے میں اس پیشے کو باعزت نہ سمجھنے جانے کے باوجود اس پیشے میں مہارت حاصل کی۔

florence

نرسوں کا عالمی دن اسی عظیم خاتون کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں لگ بھگ 2 کروڑ نرسیں مختلف اسپتالوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

پاکستان میں شعبہ نرسنگ

پاکستان میں نرسنگ کے شعبہ کی بنیاد سابق وزیر اعظم پاکستان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی جو خود بھی سندھ کی گورنر رہیں۔

اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 62 ہزار 651 نرسیں ہیں اور 10 ہزار آبادی کے لیے صرف 5 نرسیں ہیں۔

nurse-4

پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک بھر میں نرسنگ کی بنیادی تربیت کے لیے 162 ادارے قائم ہیں۔ ان اداروں سے سالانہ 1800 سے 2000 رجسٹرڈ خواتین نرسز، 1200 مڈ وائف نرسز اور تقریباً 300 لیڈی ہیلتھ وزٹر میدان عمل میں آتی ہیں۔

نرسنگ کے شعبے میں ڈپلومہ اور ڈگری پروگرام فراہم کرنے والے اداروں کی تعداد صرف 5 ہے۔

ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔

nurse-3

نرسوں کے لیے ڈاکٹروں کی طرح ڈیوٹی کی 3 شفٹیں رکھی گئی ہیں جن کا دورانیہ کم و بیش 16 گھنٹے ہوتا ہے اور حادثاتی صورتحال کے پیش نظر نرسوں کو اکثر و بیشتر اوور ٹائم میں بھی کام کرنا پڑتا ہے مگر ان کو اس کی کوئی اجرت نہیں دی جاتی۔

گزشتہ کئی عرصے سے پاکستان کے مختلف صوبوں کی نرسیں اپنے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

nurse-2

اضافی کام کے بوجھ، قلیل سہولیات، اور دیگر مسائل کے باعث سرکاری اسپتالوں میں زیادہ تر نرسز صرف تجربہ حاصل کرنے کے لیے ملازمت اختیار کرتی ہیں اور جونہی انہیں کسی بہتر جگہ ملازمت دستیاب ہوتی ہے وہ فوراً سرکاری ملازمت چھوڑ کر نجی اداروں یا بیرون ملک کا رخ کرلیتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top