site
stats
اہم ترین

امریکی امداد کی معطلی دہشت گردی کے خلاف ہماراعزم کمزورنہیں کرسکتی: ڈی جی آئی ایس پی آر

DG ISPR
پاک فوج نے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کو بلاتفریق نشانہ بنایا

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہمیں عزت کی قیمت پر سیکیورٹی امداد نہیں چاہیے، امریکی مالی امداد کے بغیر بھی طاقتور فوج ہیں، امداد کی معطلی جنگ میں ہماراعزم کم نہیں کرسکتی۔

ان خیالات کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  امریکی اقدام سے خطےمیں امن کی کوششیں متاثر ہوں‌ گی اور امریکی تعاون کی معطلی سے باہمی سیکیورٹی عمل کو نقصان پہنچے گا، امدادکی معطلی جنگ میں ہماراعزم کم نہیں کرسکتی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی دھمکیوں‌ اور الزام تراشیوں‌ کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ امن کے لیے لڑی تھی، پاکستان نے کبھی پیسوں کے لیے جنگ نہیں لڑی۔

ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کو بلاتفریق نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا، امریکیوں دھمکیوں سے دہشت گردی کےخلاف ہماراعزم کمزورنہیں ہوگا۔

ہم نے افغانستان میں اپنا کردار ادا کیا، اب امریکا کی باری ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹویٹ کے بعد آئی ایس پر آر کی جانب سے یہ بیان دیا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی، کسی نے دہشت گردی کی خلاف پاکستان جیسی جنگ نہیں لڑی، القاعدہ کو پاکستان کی مدد کے بغیر امریکا شکست نہیں دے سکتا تھا۔

پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کا اقدام مسترد، امریکا وضاحت کرے: دفتر خارجہ

واضح رہے کہ آج دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان جاری ہوا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی، گذشتہ پندرہ سال میں دہشت گردی کے خلاف 120 بلین ڈالرخرچ ہوئے اور خطے میں استحکام، شہریوں کے تحفظ کے لئے یہ جنگ جاری رکھی جائے گی۔

بھارتی اشتعال انگیزی

ایک طرف امریکا کا دھمکی آمیز رویہ ہے، دوسری طرف بھارتی اشتعال انگیزی بھی اپنے عروج پر ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے نیزہ پیر سیکٹرمیں شہری آبادی پر فائرنگ کی ہے، فائرنگ کے اس افسوس ناک واقعے میں دوخواتین شدید زخمی ہوئی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top